اسلامی جہاد کی حقیقت — Page 3
کر رکھ دی۔اور اسکے بوجھ سے اُس وقت آپ سر نہ اٹھا سکے جب تک کہ بعض لوگوں نے پہنچ کر اس بچہ دانی کو آپ کی پیٹھ سے ہٹایا نہیں۔( بخاری کتاب الصلوۃ) اسی طرح آپ پر ایمان لانے والے مسلمانوں پر بھی مظالم ڈھائے جاتے ، جن کی داستان سن کر کلیجہ منہ کو آتا ہے۔۔۔حضرت بلال رضی اللہ عنہ امیہ بن خلف نامی ایک مکی رئیس کے غلام تھے۔امیہ انہیں دو پہر کے وقت گرمی کے موسم میں مکہ سے باہر لے جا کر تپتی ریت پر نگا کر کے لٹا دیتا تھا۔اور بڑے بڑے پتھر اُن کے سینے پر رکھ کر کہتا تھا کہ حمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کر۔بلال اس کے جواب میں احد احد یعنی اللہ ایک ہی ہے، اللہ ایک ہی ہے دہراتے جاتے۔بار بار آپ کا یہ جواب سن کر امیہ کو اور غصہ آجاتا۔اور وہ آپ کے گلے میں رسہ ڈال کر شریر لڑکوں کے حوالے کر دیتا اور کہتا کہ ان کو مکہ کی گلیوں میں پتھروں کے اوپر گھسیٹتے ہوئے لے جائیں۔جس کی وجہ سے اُن کا بدن خون سے تر بتر ہو جاتا۔مگر وہ پھر بھی احد احد کہتے چلے جاتے۔بعض نادان مخالفین اسلام پر الزام لگاتے ہیں کہ اسلام تلوار کے بل بوتے پر پھیلایا گیا۔اُن کے الزام کی تردید بلال کے اسی ایک واقعہ سے ہو جاتی ہے۔کوئی مخالف بتائے وہ کون سی تلوار تھی جس کے زور پر بلال کو اسلام میں داخل کیا گیا تھا۔اور وہ کون سی شمشیر تھی ، جس نے اُن کو اتنے ظلم برداشت کرنے کا متحمل بنایا۔مخالفین نہ جانے اس کا کیا جواب دیں؟ لیکن ہم جواباً عرض کرتے ہیں، کہ وہ محمدمصطفی سینما اینم کی حب کی تلوار تھی جس نے انہیں اسلام میں داخل کیا۔حقیقت یہی ہے: محبت سے گھائل کیا آپ نے دلائل سے قائل کیا آپ نے بعض مخالفین اسلام کا خیال ہے کہ کیونکہ مکہ میں محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو قوت و۔۔۔۔3۔