اسلامی جہاد کی حقیقت

by Other Authors

Page 10 of 17

اسلامی جہاد کی حقیقت — Page 10

ہے۔خدا تعالیٰ کی طرف دعوت کرنے کی ایک راہ نہیں۔پس جس راہ پر نادان لوگ اعتراض کر چکے ہیں۔خدا تعالیٰ کی حکمت اور مصلحت نہیں چاہتی کہ اسی راہ کو پھر اختیار کیا جائے۔اس کی ایسی ہی مثال ہے کہ جیسے جن نشانوں کی پہلے تکذیب ہو چکی وہ ہمارے سید رسول اللہ صل تم کو نہیں دیئے گئے۔لہذا اسیح موعود اپنی فوج کو اس ممنوع مقام سے پیچھے ہٹ جانے کا حکم دیتا ہے۔“ (روحانی خزائن جلد ۱۶ صفحہ ۲۸) واعلمو ان وقت الجهاد السيفى قد مضى ولم يبق الاجهاد القلم و الدعا و آیات عظمی (حقیقۃ المہدی۔روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحہ ۴۵۸) یعنی جان لو کہ اب جہاد بالسیف کا وقت نہیں ہے بلکہ قلم اور دعا اور بڑے بڑے نشانات کے ذریعہ جہاد کرنے کا زمانہ ہے۔وفى هذه الايام و أمرنا ان نعد للكافرين كما يُعدّون لنا۔ولا نرفع الحسام قبل ان نقتل بالحسام (حقیقۃ المہدی۔روحانی خزائن ۱۴ صفحه ۴۵۴) اب جہاد کے اسباب باقی نہیں رہے، اور ہمیں حکم ہے کہ ہم انکار کرنے والوں کے مقابل پرویسی ہی تیاری کریں جیسی وہ ہمارے مقابل پر کر رہے ہیں۔اور اُس وقت تک ہرگز تلوار نہ اٹھا میں جب تک ہم تلوار کے ذریعہ قتل نہ کئے جائیں ( یا تلوار کے ذریعہ ہم سے لڑا نہ جائے) سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جب التواء جہاد بالسیف کا اعلان فرمایا تو مولویوں اور علماء نے آپ کے خلاف کفر کے فتوے لگائے۔اور بہت برا بھلا کہا۔مگر تصرف الہی دیکھیئے کہ آہستہ آہستہ حالات نے مسلمانوں کی اکثریت کو وہی عقیدہ و موقف اختیار کرنے پر مجبور کر دیا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیان فرمایا تھا۔چنانچہ جلالتہ الملک شاہ فیصل نے ۱۳۸۵ ہجری کے موقعہ پر رابطة العالم الاسلامی مکہ مکرمہ کے اجتماع میں فرمایا : انکم ايها الاخوة الكرام مدعوون لترفعوا على الجهاد في سبيل الله وليس الجهاد هو فقط حمل البندوقية او تجريد 10