اسلامی جہاد کی حقیقت — Page 7
کی فرمانبرداری میں اپنے نفس کو مشقت میں ڈالتا ہے۔سامعین کرام پہلے درجے کا جہاد وہ ہے جو انسان اپنے نفس کے خلاف کرتا ہے۔اسلام میں سب سے بڑا جہاد یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو گناہوں اور پاپوں سے بچائے ، نیک اوراچھے کام کرے اور جب ایک مسلمان اپنے آپ کو پاک کر لیتا اور باعمل بن جاتا ہے تو اُسے دوسرے درجے کا جہاد (جہاد کبیر ) کرنے کا حکم ہے۔جیسا کہ فرمایا۔جَاهِدُهُمْ بِهِ جِهَادًا كَبِيرًا (الفرقان : ۵۳) تو قرآن مجید کی تعلیمات کو دوسروں تک پیار و محبت ، دلائل و برھان سے پہنچا۔جماعت احمدیہ کے اکثر افراد بفضلہ تعالیٰ دن رات جہاد کبیر میں مصروف ہیں۔تیسرے درجے کا جہاد سب سے چھوٹا جہاد جہاد اصغر ) کہلاتا ہے۔یہ صرف اُس وقت کرنے کی اجازت ہے جب کہ مسلمان ربنا اللہ کہنے کی وجہ سے ظلم کئے جائیں۔اور ایسی حالت میں اگر مسلمان چھوٹا جہاد کریں گے تو اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے اِنَّ الله عَلى نَصْرِهِم لقدير (الحج:۲۰) یقینا اللہ ان کی مدد پر پوری قدرت رکھتا ہے ) آج کے جو مسلمان اور اُن کے مولوی جہاد، جہاد کا نعرہ لگا کر معصوم انسانوں کو قتل کرتے اور کرواتے ہیں۔اس کا اُس جہاد سے دور کا بھی تعلق نہیں جسے قرآنی جہاد کہا جاتا ہے۔اگر یہ قرآنی جہاد ہوتا توضرور اللہ تعالیٰ انہیں غلبہ و فتح عطا کرتا۔پچھلے ایک سوسال میں اُن کی ہر میدان میں شکست و حزیمت اس بات کا واضح اشارہ ربانی ہے کہ یہ قرآن کا جہاد نہیں۔اگر یہ وہ ہوتا تو انہیں ضرور فتح نصیب ہوتی۔پھر سد نامحمد الین ایام کا واضح فرمان ہے۔مسلم ومومن وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے لوگوں کے جان و مال محفوظ رہیں۔اگر آج اپنے آپ کو مسلمان مومن کہلانے والوں کے ہاتھوں کہیں معصوم انسانوں کا قتل ہوتا ہے تو وہی بتا ئیں کہ اس فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا مطلب ہے؟ پس ثابت ہوا کہ حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق مسلمان اور مومن تو ایسا کرے گا نہیں۔اگر کوئی کرتا ہے تو پھر وہ کسی اسلام دشمن طاقتوں۔