اسلامی جہاد کی حقیقت — Page 9
کسی چیز کو جو سانس لیتی ہے جیسا نہ چھوڑیو۔“ (استثناء ۶۱/۲۰) حضرت عیسی علیہ السلام کا انجیل میں فرمان ہے یہ نہ سمجھو کہ میں زمین پر صلح کرانے آیا ہوں صلح کروانے نہیں بلکہ تلوار چلوانے آیا ہوں۔(متی ۳۴/۱۰) جب یہود اور عیسائیوں نے دیکھا کہ تورایت وانجیل میں تو انتہائی جارہانہ اور ظالمانہ تعلیمات دی گئیں ہیں اور اس کے مقابل قرآن کریم میں انتہائی متوازن اور پرامن تعلیمات دی گئیں ہیں۔تو انہوں نے ” جہاؤ" کے لفظ کی غلط تفسیر مسلمانوں میں پھیلانا شروع کی، اور دوسری طرف مطلب پرست مسلمان کہلانے والے بادشاہوں کو اپنی سلطنتوں کی وسعت کے لئے ”جہاد“ کی غلط تفسیر کی ضرورت تھی ، چنانچہ انہوں نے اپنے زمانے کے علماء کے ذریعہ غلط تفسیر کو خوب رواج دیا، گویا دشمنانِ اسلام کی طرف سے جھوٹ کی مردہ لاش کو علماء کی طرف سے کفن مل گیا۔اور نتیجہ یہ نکلا کہ آج ”جہاد“ کی غلط تفسیر کو ہی اصل تفسیر سمجھ کر اسلام کے متعلق بہت سی غلط فہمیاں پیدا کر دی گئیں۔اس غلط نہی ، اور اس طرح کی اور بہت سی غلط فہمیوں کے ازالہ کے لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی علیہ السلام کو سیح موعود اور امام مہدی بنا کر بھیجا۔اور انہوں نے اعلان فرمایا: " آج سے انسانی جہاد جو تلوار سے کیا جاتا تھا۔خدا کے حکم کے ساتھ بند کیا گیا۔اب اس کے بعد جو شخص کافر پر تلوار اٹھاتا ہے۔اور اپنا نام غازی رکھتا ہے وہ اس رسول کریم ملی تم کی نافرمانی کرتا ہے۔جس نے آج سے تیرہ سو برس پہلے فرما دیا ہے کہ مسیح موعود کے آنے پر تمام تلوار کے جہاد ختم ہو جا ئیں گے۔سواب میرے ظہور کے بعد تلوار کا کوئی جہاد نہیں۔ہماری طرف سے امان اور صلح کاری کا سفید جھنڈا بلند کیا گیا