اسلامی جہاد کی حقیقت — Page 8
کے اشارے پر اسلام اور حقیقی مسلمانوں کو بدنام کرنے کے لئے ایسا کرے گا۔یہ بات بھی درست ہے کہ پچھلی صدی میں دنیا کے بعض ملکوں اور علاقوں میں یا جوج و ماجوج اور دجال کی سیاست اور خود مسلمانوں کی اپنی غلطیوں کے نتیجہ میں مسلمان دوسری قوموں سے برسر پیکا ررہے ہیں اور ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے۔واضح ہو، کہ یہ سب کی سب سیاسی لڑائیاں جھگڑے قتل وغارت ہے۔ان کا اسلام اور قرآن سے کوئی بھی تعلق نہیں۔اور اگر انہیں کوئی اسلام کی طرف منسوب کرتا ہے تو وہ سخت غلطی پر ہے۔یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسلام کی پر امن تعلیمات کے ہوتے ہوئے، جہاد کا غلط مفہوم مسلمانوں میں کہاں سے سرایت کر گیا۔اگر تاریخ کا گہرائی سے مطالعہ کیا جائے تو اس سوال کا جواب آسانی سے مل جائے گا۔اسلام کی ابتدائی صدیوں میں اسلام کی غیر معمولی ترقیات کو دیکھ کر دشمنان اسلام سمجھ گئے ، کہ اب اسلام کا مقابلہ ہمارے بس کی بات نہیں رہی۔دوسری طرف وہ اسلام کو تباہ و برباد اور ناکام و بدنام کرنا چاہتے تھے۔چنانچہ انہوں نے مسلمانوں میں شامل ہو کر کچھ غلط عقائد مسلمانوں میں پھیلانے شروع کئے۔مثلاً یہ کہنا کہ عیسی علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں اور دوبارہ نازل ہوں گے، ہر قسم کی نبوت ووحی کا سلسلہ منقطع ہو چکا ہے۔اسلام نے جہاد کے ذریعہ قتل اور سفا کی کی تعلیم دی ہے، وغیرہ کیونکہ یہودیوں اور عیسائیوں کو تو رایت میں یہ حکم دیا گیا تھا۔” جب خداوند تیرا خدا اُسے (یعنی کسی شہر کو ) تیرے قبضے میں کر دے تو وہاں کے ہر ایک مرد کو تلوار کی دھار سے قتل کر ، مگر عورتوں اور لڑکوں اور مواشی کو جو جو کچھ اس شہر میں جو اس کا سارالوٹ اپنے لئے لے لے۔(استثناء۲۰/ ۱۴-۱۳) ان قوموں کے شہروں میں جنہیں خداوند تیرا خدا تیری میراث کر دیتا ہے،