اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 73
قرآن کریم کی رو سے یہی وہ انجام ہے جس سے مادہ پرست معاشرے دو چار ہوا کرتے ہیں۔اس کے بالمقابل مذہب ایک ایسا نظریاتی نظام پیش کرتا ہے جس کے مطابق یہ ور لی زندگی ہی سب کچھ نہیں ہے کہ جس کے ختم ہونے کے ساتھ ہی سب کچھ ختم ہو جائے بلکہ ایک دوسری زندگی بھی ہے جو اس دنیوی زندگی کے بعد آنے والی ہے۔پس اس دنیا میں موت ہمیں ابدی فنا کے گھاٹ نہیں اتارتی بلکہ جیسا کہ اسلام اور دیگر بہت سے مذاہب یقین دلاتے ہیں موت کے بعد بھی زندگی کا سفر کسی نہ کسی شکل میں جاری رہتا ہے۔اس زندگی کو آنے والی زندگی سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔پس اگر یہ سب سچ ہے اور دونوں زندگیاں دراصل ایک ہی تسلسل کے دو نام ہیں تو اس دنیا کے معاشرتی اثرات کو نظر انداز کرنا انتہائی نادانی کی بات ہوگی۔اس زندگی کے برے اور منفی اثرات آئندہ زندگی میں لا زمنا ایک بیمار روح کو جنم دیں گے۔حیات بعد الموت کا انکار یہاں اخروی زندگی کے متعلق اسلامی فلسفہ پر تفصیلی بحث کا موقع نہیں ہے لیکن ایک بات کا ذکر ضروری ہے۔اسلامی تعلیم کے مطابق اس دنیا کی زندگی ہماری روحوں پر اس طرح اثر انداز ہوتی ہے جیسے ایک حاملہ کی بیماری رحم مادر میں جنین کو متاثر کرتی ہے۔جس کے نتیجہ میں ممکن ہے کہ بچہ پیدائشی طور پر اتنا معذور ہو کہ اس کے لئے اس دنیا میں آ کر صحت مند بچوں کے ہمراہ انتہائی بے چارگی کے عالم میں زندگی بسر کرنا ایک عذاب بن جائے۔ظاہر ہے کہ جوں جوں شعور بڑھے گا یہ اذیت اور بھی زیادہ تلخ اور گہری ہوتی جائے گی۔مختصراً یہ کہ اسلام کی تعلیم کے مطابق ہم اپنی 73 الله