اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 65 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 65

اب ہم اس سوال کی طرف آتے ہیں کہ عصر حاضر میں معاشرتی امن کو قائم کرنے میں اسلام کا کیا کردار ہے۔عصر حاضر کا معاشرتی نظام عدم بدقسمتی سے آج کے معاشرہ میں لوگوں کے اخلاق سے مذہب کا اثر تیزی سے مٹتا جا رہا ہے۔حالات بد سے بدتر ہوتے چلے جارہے ہیں۔لوگ کسی نہ کسی طرح مذہبی فرائض سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتے ہیں اور مذہبی پابندیوں سے دامن چھڑانے کا یہ رجحان بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے۔لیکن جہاں ایک طرف مذہبی اور اخلاقی اقدار سے لا پرواہی برتی جا رہی ہے وہاں اس کے ساتھ ساتھ معاشرہ میں افراتفری اور م تحفظ کے بڑھتے ہوئے احساس کے باعث خوف و ہراس کی کیفیت بھی جنم لے رہی ہے۔اس حی و قیوم خدا پر ایمان تیزی سے اٹھتا چلا جا رہا ہے جو نہ صرف انسان کی تقدیر بنانے والا ہے بلکہ وہی یہ حق بھی رکھتا ہے کہ ہمارے لئے زندگی کے طور طریقے اور آداب وضع فرمائے۔اس صورت حال کو مختصر طور پر قرآن کریم یوں بیان فرماتا ہے۔ظَهَرَ الفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ ( سورۃ الروم آیت ۴۲) ترجمہ۔فساد خشکی پر بھی غالب آ گیا اور تری پر بھی۔انیسویں صدی کے آغاز تک مغرب میں عیسائیت کا غلبہ تھا اور عیسائیوں کے اخلاق اور کردار پر عیسائیت کی گرفت بڑی مضبوط اور مؤثر تھی مگر افسوس کہ اب یہ منظر تبدیل ہو چکا ہے۔سائنٹفک سوشلزم اور تیز رفتار سائنسی اور مادی ترقی کے زیر اثر ایک ایسی تہذیب ابھری ہے جس نے عیسائیت کو قدم بقدم پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا ہے 65