اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page vi
نے بھی پروف ریڈنگ میں مدد کی نے کمپیوٹر پر غلطیوں کی اصلاح میں بہت وقت دیا۔اسی طرح دیگر احباب نے بھی مختلف امور میں مدد کی۔اللہ تعالیٰ سب کو جزائے خیر عطا فرمائے۔آمین اس خطاب میں جن امور پر حضور انور رحمہ اللہ تعالیٰ نے گفتگو فرمائی وقت گزرنے کے ساتھ ان کی اہمیت اور بھی واضح ہوتی چلی جا رہی ہے۔حضرت امام جماعت احمدیہ رحمہ اللہ تعالیٰ کی دُور بین نگاہ نے مستقبل کے جن امکانات اور خدشات کی نشان دہی فرمائی تھی وہ حیرت انگیز طور پر سچ ثابت ہو رہے ہیں۔مثال کے طور پر اشتراکیت کے زوال کے بعد مشرقی یورپ کے ممالک میں عظیم الشان تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔اقوام متحدہ بین الاقوامی معاملات میں وہی کردار ادا کر رہی ہے جس کی طرف حضور نے اشارہ فرمایا تھا۔برطانیہ میں شرح سود کی پالیسی کا نتیجہ اقتصادی بدحالی کی صورت میں سامنے آیا ہے۔یہ تمام امور اور در حقیقت ان کے علاوہ بہت سے امور اس خطاب میں قبل از وقت پوری وضاحت کے ساتھ بیان کر دیئے گئے تھے۔حضرت امام جماعت احمد یہ رحمہ اللہ تعالیٰ نے ۱۹۹۰ ء کے آغاز میں جب یہ خطاب فرمایا تھا اس وقت ابھی ان تمام تبدیلیوں کے آثار دنیا کے افق پر ظاہر نہیں ہوئے تھے۔بہت کم ایسا ہوا ہے کہ قبل از وقت دنیا کو اس قدر واضح انتباہ کر دیا گیا ہو۔حضور رحمہ اللہ تعالیٰ کا یہ خطاب جس پیغام پر مشتمل ہے وہ دائی اہمیت کا حامل ہے اور اس کا تعلق امن عالم کے مستقبل سے ہے۔جو پیش خبریاں اس خطاب میں موجود ہیں اگر ان میں سے اکثر کو آئندہ رونما ہونے والے واقعات نے سچ کر دکھایا جیسا کہ بعض سچ ثابت بھی ہو چکی ہیں تو پھر عالمی رہنماؤں کو چاہئے کہ وہ اس پیغام کی اہمیت کو سمجھیں اور نظام دنیا کی تشکیل نوکرتے ہوئے اس سے بھر پور فائدہ اٹھائیں۔خدا کرے کہ ایسا ہی ہو۔آمین۔V