اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 29
عالمی تحریکیں موجود ہیں جنہیں آسانی سے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا بلکہ ان کا سنجیدگی سے نوٹس لینا ضروری ہو جاتا ہے۔ایسی تحریکات اگر غیر ذمہ دار تنگ نظر اور تشدد پسند قیادت کے ہاتھوں میں چلی جائیں تو لامحالہ امکانی خطرات حقیقت کا روپ دھار لیتے ہیں اور کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔یہ پراپیگنڈہ کہ اسلام اپنے نظریات کی اشاعت و ترویج کے لئے طاقت کے استعمال کی حوصلہ افزائی کرتا ہے مخالفین اسلام تو کرتے ہی ہیں مگر بدقسمتی سے کٹر ملاؤں نے بھی ایسے خیالات کو فروغ دیا ہے۔ان ملاؤں کے مزاج قرون وسطی کی تنگ نظری اور تشدد پسندی کے آئینہ دار ہیں۔ظاہر ہے کہ اگر ایک مذہب دوسرے مذہب کے خلاف جارحیت کا راستہ اختیار کرتا ہے تو دوسرے مذہب کو یہ حق حاصل ہو جاتا ہے کہ وہ بھی اپنے دفاع میں ویسے ہی ہتھیار استعمال کرے۔میں ہرگز اس پراپیگنڈہ سے متفق نہیں ہوں کہ اسلام اپنے نظریات کی اشاعت کے لئے طاقت کے استعمال کا حامی ہے بلکہ اس کی پر زور تردید کرتا ہوں۔تاہم اس پر تفصیلی گفتگو سے پہلے ہم کسی مذہب کے عالمگیر ہونے کے دعوی کو عقلی معیار پر پرکھنے کی کوشش کرتے ہیں یعنی یہ دیکھتے ہیں کہ کیا کسی مذہب کا پیغام عالمی اور آفاقی ہوسکتا ہے؟ مراد یہ ہے کہ کیا اسلام ،عیسائیت یا کسی بھی مذہب کا پیغام ہر رنگ ونسل اور قومیت کے لوگوں پر یکساں اطلاق پا سکتا ہے؟ کیا اس قدر مختلف نسلی، قبائلی اور قومی روایات، معاشرتی عادات و اطوار اور ثقافتی رسوم و رواج کے ہوتے ہوئے ایک ہی پیغام سب کے لئے قابل عمل ہو سکتا ہے؟ پھر سوال یہ ہے کہ کیا مذہب زمانی حدود و قیود سے بالا ہو سکتا ہے؟ مذاہب جس آفاقیت کے مدعی ہیں اس کا تقاضا تو یہ ہے کہ نہ صرف جغرافیائی اور قومی حدود بلکہ زمانی حدود بھی مٹ جائیں۔پس کیا مذہب کی تعلیمات اس زمانہ کے لوگوں کے لئے ویسے ہی موزوں اور قابل عمل ہوسکتی ہیں جیسے وہ ایک ہزار سال 29 29