اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 304
خیر کے معانی بہتر اور بہترین دونوں کے ہیں۔ایک مرتبہ آنحضرت ﷺ نے خیر کے معنوں کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا۔اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔اوپر والا ہاتھ دینے اور خرچ کرنے والا ہے اور نچلا ہاتھ مانگنے اور لینے والا ہے۔“ (صحیح البخارى كتاب الزكاة باب لاصدقة الا عن ظهر غنى - وصحيح مسلم كتاب الزكاة - باب بيان أن اليد العليا خير من اليد السفلى) قرآن کریم اور احادیث میں عظمت کردار کے اس پہلو پر بڑا زور دیا گیا ہے۔یہی وجہ تھی کہ صحابہ کرام نے اس تعلیم پر عمل کرتے ہوئے عظمتِ کردار کے نئے اور ارفع معیار قائم کئے۔انہیں بس ایک ہی دھن تھی اور وہ یہ کہ دوسروں کی خدمت کریں۔دوسروں سے خدمت لینے میں تو وہ ایک گونہ عار محسوس کرتے۔حضرت عوف بن مالک النجعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک موقع پر ہم سات، آٹھ یا نو افراد آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے۔ﷺ نے فرمایا کیا تم اللہ کے رسول کے ساتھ ایک عہد نہیں کرو گے؟ حضرت عوف بیان کرتے ہیں کہ ہم نے کچھ ہی عرصہ قبل حضور ﷺ کے دست مبارک پر بیعت کی تھی چنانچہ ہم نے عرض کی یا رسول اللہ ! ہم تو پہلے ہی عہد کر چکے ہیں۔اس پر آنحضرت ﷺ نے اپنا سوال دو ہرایا اور ہم نے وہی جواب دیتے ہوئے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! اب آپ ہم سے کون سا عہد لینا چاہتے ہیں؟ آپ نے فرمایا یہ کہ تم اللہ کی عبادت کرو گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراؤ گے اور یہ کہ تم پنجوقتہ فرض نمازیں ادا کرو گے اور اللہ کی اطاعت کرو گے اور کسی سے کچھ نہیں مانگو گے۔حضرت عوف بن مالک بیان فرماتے ہیں کہ اس کے بعد میں نے دیکھا کہ ان اصحاب میں سے کسی سوار کے ہاتھ سے گھوڑے کا چابک بھی گر جاتا تو وہ 304