اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 301
ہو گے اللہ تمہیں اکٹھا کر کے لے آئے گا۔یقیناً اللہ ہر چیز پر جسے وہ چاہے دائمی قدرت رکھتا ہے۔یہ قرآن کریم کا اعجاز ہے کہ اس مختصر سی آیت میں حکمت کے سمندر کو کوزے میں بند کر دیا ہے۔یہ آیت ہر میدان اور ہر قسم کے مقابلہ کے لئے راہنما اصول مہیا کرتی ہے۔آخری مقصد تو نیکی کا حصول ہے اور یہی دراصل سب سے اعلیٰ و ارفع مقصد ہے۔اس لئے نیکی ہی کو مقابلوں کا مقصود بالذات ہونا چاہئے۔پس اس مختصر سی آیت کے ذریعہ ہر قسم کے ناجائز ذرائع اور ہیرا پھیری سے مسابقت کی کوشش کو کلیپ ممنوع قرار دے دیا گیا ہے۔اگر وقت اجازت دیتا تو ہم تفصیل سے اور وضاحت کے ساتھ یہ جاننے کی کوشش کرتے اور اسلامی تعلیم سے نظائر پیش کرتے کہ جملہ مقابلوں کو کس طرح صحتمند، صاف ستھرا اور شفاف رکھا جا سکتا ہے۔بہت کم لوگ یہ شعور رکھتے ہیں کہ قلب و ذہن کا حقیقی اطمینان دراصل نیک ہونے میں ہے نہ کہ ناجائز ذرائع سے کام لے کر کوئی بڑا معرکہ سرانجام دینے میں۔ایسے لوگ نہ تو معاشرہ سے اور نہ ہی اپنی ذات سے کبھی مطمئن ہوتے ہیں۔سرسری نظر سے دیکھنے والوں کو ایسے لوگ بظاہر بڑے تمھیں مارخان اور خوش و خرم دکھائی دیں گے مگر اندر سے ان کی فتح اور کامیابی بہت کھو کھلی ہوا کرتی ہے۔پاکستان کے ایک مرحوم ارب پتی کے ایک دوست نے مجھے یہ حیران کن اور دکھ بھری کہانی سنائی کہ ایک مرتبہ اس نے اپنے دوست کے سامنے اس کی عظیم الشان کامیابیوں کی تعریف کی تو بجائے خوش ہونے کے اس نے جو فوری ردعمل دکھایا وہ بڑا ہی حیران کن تھا۔اس نے اپنا گریبان کھولا اور اپنے ہاتھ کو اس طرح حرکت دی جیسے وہ اپنے ناخنوں سے جانور کے پنجے کی طرح اپنا سینہ چاک کرنا چاہتا ہے۔اس 301