اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 272 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 272

ملاؤں کی اس آتش شوق کو مزید بھڑکا دیا ہے جہاں سنی مسلمانوں کی اکثریت ہے۔وہ کہتے ہیں کہ اگر شیعہ رہنما جناب ثمینی انقلاب بر پا کر سکتے ہیں تو ہم کیوں کامیاب نہیں ہوں گے۔لیکن ملاں یہ نہیں جانتا کہ انقلاب کیا رنگ لائے گا اور اس کے کیا نتائج ہوں گے۔وہ تو صرف اپنی جنت الحمقاء میں بس رہا ہے۔دوسری طرف عوام ہیں جو عجیب مخمصوں میں پڑے ہوئے ہیں۔انہیں یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کے احکامات کو مانیں یا اپنے سیاسی معاملات کو خوف خدا سے عاری راہنماؤں کے سپرد کر دیں۔ایک عام آدمی کے لئے اس سوال کا جواب تلاش کرنا بے حد مشکل ہے۔وہ حیران و پریشان ہے کہ کیا کرے اور کیا نہ کرے۔اکثر مسلمان ممالک کے عوام اسلام سے شدید محبت رکھتے ہیں۔ان کی محبت کا یہ عالم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفی ﷺ کی ناموس کی خاطر جان تک قربان کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔بایں ہمہ ان حالات میں عام آدمی طرح طرح کی ذہنی الجھنوں میں مبتلا ہے اور بے چینی کا شکار ہے۔اللہ تعالیٰ صلى الله اور رسول اللہ ﷺ سے محبت کے باوجود لوگوں کو ماضی کے وہ خونیں ادوار بھی رہ رہ کر یاد آتے ہیں جب یا تو حکومتیں مولویوں کی گرفت میں تھیں یا مولویوں کو حکومتیں اپنا آلہ کار بنا کر سیاسی مفاد حاصل کر رہی تھیں۔مسلمان سیاست دان بھی گومگو کی ایک کیفیت میں مبتلا ہیں اور بھانت بھانت کی بولیاں بول رہے ہیں۔ان میں سے بعض کو تو ملاں کی حمایت اور سر پرستی کئے بغیر کھانا ہضم نہیں ہوتا۔ان کی خواہش دراصل یہ ہوتی ہے کہ انتخابات میں لوگ انہیں ملاں کی بجائے مجاہد اسلام کے طور پر منتخب کریں اور ملاں سے زیادہ انہیں شریعت کا سر پرست اور محافظ سمجھیں۔ان کے زعم میں اس ہیں۔ان کے زعم میں اس سے یہ فائدہ ہوگا کہ زندگی نسبتاً سہولت سے بسر ہوگی کیونکہ سارے معاملات کلیہ ان کے اپنے ہاتھوں میں رہیں گے 272