اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 230 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 230

مالی حالات کی وجہ سے مقررہ وقت پر قرض لوٹانے کے قابل نہ ہو تو اسے مہلت ضرور دی جانی چاہئے۔قریبی رشتہ دار بھی اگر چاہیں تو قرض کی ادائیگی میں ہاتھ بٹا سکتے ہیں۔اگر مقروض وفات پا جائے تو اس کی متروکہ جائیداد سے قرض کی ادائیگی کی جاسکتی ہے۔مقروض کے بوجھ کو کم کرنے کے لئے زکوۃ کی رقم بھی استعمال میں لائی جا سکتی ہے اور اگر ایک صاحب ثروت انسان کسی کا قرضہ معاف کر دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی نظر میں اور بھی اچھا عمل قرار پائے گا۔تاہم ایسا مقروض جو ادائیگی قرض کی استطاعت رکھتا ہے اسے بہر حال مقررہ مدت کے اندر اندر قرض واپس کر کے ایفائے عہد کرنا چاہئے بلکہ اسے چاہئے کہ قرض لوٹاتے وقت بطور احسان کچھ زائد رقم بھی ادا کر دے تاہم یہ زائد رقم دینا لازمی نہیں ہے اور نہ ہی پہلے سے اس کا تعین کرنا چاہئے ورنہ ایسی ادائیگی سود کی وسیع تر تعریف کے زمرہ میں شامل ہو جائے گی۔قرض کے متعلق قرآن کریم کی تعلیم مندرجہ ذیل آیات میں بیان کی گئی ہے۔آرش يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا تَدَايَنْتُمْ بِدَيْنِ إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى فَاكْتُبُوهُ وَلْيَكْتُبْ بَيْنَكُمْ كَاتِبٌ بِالْعَدْلِ وَلا يَأْبَ كَاتِب " أَنْ يَكْتُ كَمَا عَلَّمَهُ اللهُ فَلْيَكْتُ ص ط وَلْيُمْلِلِ الَّذِى عَلَيْهِ الْحَقَّ وَلْيَتَّقِ اللهَ رَبَّهُ وَلا يَبْخَسْ مِنْهُ شَيْئًا ، فَإِنْ كَانَ الَّذِي عَلَيْهِ الْحَقُّ سَفِيهَا أَوْ ضَعِيفًا أَوْلَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يُمِلَّ هُوَ فَلْيُمْلِلْ وَلِيُّه ٥٠٥ بِالْعَدْلِ ، وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِنْ رِجَالِكُمْ ، فَإِنْ لَّمْ يَكُونَا رَجُلَيْنِ فَرَجُلٌ -٥ -٥ -٥ 05 وامْرَأَتَانِ مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ أَنْ تَضِلُّ إِحْدُهُمَا فَتُذَكِّرَ إِحْدُهُمَا الْأُخْرَى ، وَلَا يَأْبَ الشُّهَدَاءُ إِذَا مَادُعُوا ، وَلَا تَسْتَمُوا أَنْ تَكْتُبُوهُ صَغِيرًا أَوْ كَبِيرًا إِلَى أَجَلِهِ ذَلِكُمْ أَقْسَطُ عِنْدَ اللهِ وَأَقْوَمُ لِلشَّهَادَةِ وَأَدْنَى أَلَّا تَرْتَابُوا إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً حَاضِرَة تُدِيرُ ونَهَا بَيْنَكُمْ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَلا تَكْتُبُوهَا ، وَأَشْهِدُوا إِذَاتَبَايَعْتُمْ ، وَلا يُضَارَ كَاتِب وَّلَا شَهِيدٌ وَإِنْ تَفْعَلُوا فَإِنَّهُ 28 ط 230