اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 196
آزاد نجی کاروبار میں سود ہو یا نہ ہو ذاتی ملکیت کا احساس ہی سرمایہ میں تیزی سے اضافہ کرنے کی خواہش کو ابھارنے کے لئے کافی ہے۔سود پر قرض لینے کی صورت میں سود کی شرح ہی وہ معیار ہے جس کے ذریعہ ہم یہ معلوم کر سکتے ہیں کہ مجموعی قومی سرمایہ میں کمی ہوئی ہے یا اضافہ ہوا ہے مگر سوشلزم کے اقتصادی نظام میں اول تو سرمایہ میں اضافہ کی کوئی خواہش ہی نہیں ہوتی کیونکہ اس میں کسی کا ذاتی سرمایہ نہیں ہوتا دوسرے اس میں کوئی ایسا طریق موجود نہیں ہے جس کے ذریعہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ سرمایہ میں اضافہ کی شرح اقتصادی لحاظ سے کافی بھی ہے یا نہیں۔سوشلزم میں چونکہ حکومت سارے ملکی سرمایہ کو جبراً اپنے قبضہ میں لے لیتی ہے اس لئے وہاں سودی نظام کی بات بالکل بے معنی اور غیر متعلق ہو کر رہ جاتی ہے۔مشکل یہ ہے کہ جب کسی پر دباؤ نہ ہو کہ اس نے سود میں ادا کی جانے والی رقم سے زیادہ کمانا ہے تو پھر کوئی ترغیب باقی نہیں رہتی اور احساس ذمہ داری ختم ہو جاتا ہے۔اگر ایک اشترا کی ریاست میں سارے زیر گردش سرمایہ کی اس نقطہ نظر سے قیمت لگائی جائے کہ اس سرمایہ کو بینک میں رکھنے سے کتنا سودمل سکتا ہے تو ہمیں اس طرح تصویر کا صرف ایک رخ دکھائی دے گا۔دوسرے رخ کو سمجھنے کے لئے ملکی اقتصادیات کا نفع و نقصان کی بنیاد پر اندازہ کرنا پڑے گا۔یہ حساب کرنا اگر چہ اتنا آسان نہیں ہے کیونکہ اس میں کئی پیچیدگیاں ہیں مثلاً ملازمین کی اجرت کا اندازہ کرنا وغیرہ لیکن اگر ماہرین سر جوڑ کر بیٹھیں تو یہ پیچیدگیاں دور ہو سکتی ہیں۔تصویر کے دونوں رخ دیکھنے سے اور ان کے باہمی موازنہ سے بعض بڑے دلچسپ امکانات ہمارے سامنے آئیں گے۔بہت ممکن ہے کہ اس طرح ہم کرتے ہوئے معیار زندگی کی حقیقی وجوہات کی تعیین اور نشان دہی کر سکیں۔اگر چہ اس قسم کے اقتصادی تنزل کے اسباب کا تعین کسی لمبے چوڑے حساب کتاب کے بغیر بھی بآسانی کیا جا سکتا ہے۔سوشلزم میں چونکہ 196