اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 189 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 189

اس حد تک سخت کیوں ہے؟ یہاں تک کہ بعض کے نزدیک اسلام ایک خشک مذہب ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اسلام ہرگز ایک خشک مذہب نہیں ہے لیکن اگر اسے دور سے دیکھا جائے اور پوری طرح سمجھا نہ جائے تو ممکن ہے کہ بعض لوگوں کو خشک اور بور دکھائی دے۔سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ جن لوگوں میں نیکی کا ذوق پیدا ہو جائے وہ ان نیک اعمال کے ذریعہ بھی اعلیٰ درجہ کی لذت پا لیتے ہیں جو باہر سے دیکھنے والے کو بور نظر آتے ہیں۔ان سے بھی زیادہ خوش نصیب وہ لوگ ہیں جنہوں نے محبت الہی کا مزہ چکھ لیا ہو۔یہ لوگ روحانیت کے اتنے بلند مقام پر فائز ہوتے ہیں جہاں سے دنیا کی سفلی لذات بہت حقیر، گھٹیا بے معنی اور عارضی دکھائی دینے لگ جاتی ہیں۔تیسرے یہ کہ وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو وہ معاشرہ جس نے عیش وعشرت کو اپنا معبود نہ بنایا ہو بھی تہی دست نہیں ہوتا۔شراب نوشی اور جوئے کی بحث کا آخری اور مختصر نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ یہ دراصل ایک قدر کا دوسری قدر سے تبادلہ ہے۔شراب کے نشہ کی ہیجانی کیفیت اور انتہا درجہ کی جسمانی لذت اور مستی کے عوض حقیقی امن و سکون، طمانیت قلب، احساس تحفظ، شرافت اور قناعت کبھی کچھ ہاتھ سے جاتا رہتا ہے۔حالانکہ یہ چیزیں اپنی ذات میں اعلیٰ وارفع قدریں ہیں جن سے بڑھ کر کوئی انعام نہیں ہوسکتا۔اگر اسلام کے پیش کردہ معاشرتی ماحول کا آج کے معاشرتی اور سماجی ماحول سے بحیثیت مجموعی موازنہ کیا جائے تو یہ بات بآسانی سمجھ میں آ جاتی ہے کہ محبت الہی کا شجر مادہ پرستی کی زمین میں قرار نہیں پکڑ سکتا۔جولوگ مادی زندگی کی دلچسپیوں اور رنگینیوں میں غرق ہو جائیں وہ خدا کی محبت میں کیسے کھو سکتے ہیں اگر چہ کچھ استثنائی صورتیں ہیں مگر ان سے قانون تو نہیں بنا کرتے۔پس خلاصہ یہی ہے کہ اسلام جس سماجی ماحول کو پیش کرتا ہے وہ مادہ پرستی کے ماحول سے بے حد مختلف ہے۔189