اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 168 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 168

اس سے مراد یہ ہے کہ جو شخص بنی نوع انسان کا شکر ادا نہیں کرتا وہ اگر خدا کا شکر گزار ہو بھی تو اس کا شکر اللہ تعالیٰ کے ہاں قبول نہیں کیا جائے گا۔سورۃ الزمر کی مذکورہ بالا آیت شائستگی اعلی اخلاق اور شکر گزاری کے جذبہ کی ہرگز حوصلہ شکنی نہیں کرتی۔اس آیت میں تو احسان قبول کرنے والے کو یہ خاموش پیغام دیا گیا ہے کہ اسے کسی قسم کے احساس کمتری میں مبتلا ہونے کی قطعاً ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی احسان قبول کرنے سے اس کا وقار مجروح ہونا چاہئے۔ہاں کسی کا شکر گزار ہونا نہ صرف انسانی وقار کے منافی نہیں ہے بلکہ یہ تو ایک ایسی صفت ہے جو وقار میں اضافہ کا باعث بن جاتی ہے۔اسلام احسان کرنے والے کو بھی ایک بالکل مختلف اور منفرد انداز اختیار کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔عام طور پر یہ بات وقار اور انکسار کے منافی سمجھی جاتی ہے کہ شکریہ کو حق سمجھ کر قبول کیا جائے۔ایسی کسر نفسی دکھا نا تہذیب کا حصہ ہے لیکن اس عام مہذب انداز میں اور اسلام کی اعلیٰ اخلاقی تعلیم میں ایک بنیادی فرق ہے۔اسلام نیکی ، بھلائی اور خدمت خلق کا حکم اس لئے نہیں دیتا کہ ایسے کاموں کے ذریعہ نیک نامی ہو یا فطری جذبہ خدمت کی تسکین کا سامان ہو جائے۔اسلام کے نزد یک خدمت خلق کا بلند تر مقصد صرف اور صرف رضائے باری تعالیٰ کا حصول ہے۔بار بار یہ تاکید کی گئی ہے کہ نیک کام محض اللہ ہونے چاہئیں تا کہ ہمیں اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہو اور وہی اس کا اجر عطا فرمائے۔اس سے یہ بات خوب واضح ہو جاتی ہے کہ جب ایک سچا اور حقیقی مسلمان کسی حاجت مند کی حاجت پوری کرتا ہے تو اس کے پیش نظر کوئی ذاتی مفاد نہیں ہوتا نہ ہی وہ کسی شخص کو خوش کرنا چاہتا ہے۔بلکہ اس کا واحد مقصد صرف اپنے خالق اور مالک خدا کو راضی کرنا ہوتا ہے۔وہ اس خدا کی خوشنودی چاہتا ہے جس نے وہ سب کچھ اسے عطا کیا جس کا وہ آج مالک ہے۔168