اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 149
لیں گی۔طبقاتی تقسیم اور طبقاتی کشمکش اب ایک ملک کے امراء اور غرباء کے درمیان نہیں بلکہ امیر اور غریب قوموں کے مابین ہوگی۔آئندہ کچھ عرصہ تک اس تباہ کن تصادم کو دبایا تو جا سکتا ہے اور شائد اس کی شدت کو بھی کم کیا جا سکتا ہے لیکن اس سے بچنے کی کوئی صورت نہیں۔یہ بالآخر ہو کر رہے گا۔مجھے خطرہ ہے اور یہ خطرہ بلاسبب نہیں کہ ہم ایک بھیانک قسم کے عالمگیر نسلی عصبیت کے دور میں داخل ہو رہے ہیں اور اندیشہ ہے کہ نسل پرستی کے ان شعلوں کو صیہونیت کی سیاسی قیادت اور بھی بھڑکائے گی۔حیفا یونیورسٹی کے نجمن بیت ہلا ہی نے ایک کتاب لکھی ہے: "The Israeli Connection: Whom Israel arms and why" by Benjamin Beit Heilahmi۔Published in 1988 by I۔B۔Tauris and Co۔Ltd۔, London اگر مصنف کے خیالات کو سنجیدگی سے لیا جائے اور صیہونیوں کے سوچے سمجھے سیاسی فلسفہ کے متعلق اس کے پیش کردہ شواہد کو مستند سمجھا جائے تو امن عالم کے لئے یقیناً یہ کوئی اچھا شگون نہیں ہے۔عالمی امور میں اسرائیل نے جو کردار ادا کیا ہے اور جو کردار ادا کرنے کا وہ ابھی ارادہ رکھتا ہے اس کا کچھ نہ کچھ اندازہ درج ذیل اقتباسات سے ہوسکتا ہے۔” اسرائیلی ریاست کے بانی ڈیوڈ بن گورین (David Ben Gurion) نے جنوری ۱۹۵۷ء میں کہا کہ ہماری بقا اور حفاظت کے نقطہ نظر سے ہمارے لئے کسی بھی یورپین ملک کی دوستی سارے ایشیا سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔[Medzini ،۱۹۷۶ صفحہ ۷۵] صفحہ ۵ عربوں پر ازسرنو برتری حاصل کرنے کا صیہونی منصوبہ اور سامراجیت کے زوال کو روکنے کا امریکی ہدف باہم یکجا اور ہم آہنگ ہو گئے ہیں۔“ (صفحه ۲۰۵) " آج دائیں بازو سے تعلق رکھنے والا شخص دل سے یہی چاہتا ہے کہ 149