اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 128 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 128

اپنی بیویوں سے بہترین سلوک کرتا ہے“۔(ترمذی) اگر والدین اس بات کے متمنی ہیں کہ ان کے بچے بڑے ہو کر ایک صالح معاشرہ کے افراد بنیں تو انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ میاں بیوی کے باہمی تعلقات بچوں کے کردار کوسنوارنے یا بگاڑنے میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔قرآن کریم فرماتا ہے: وَالَّذِينَ لَا يَشْهَدُونَ الرُّوْرَه وَإِذَا مَرُّوا بِاللَّغْوِ مَرُّوا كِرَامًاO وَالَّذِينَ إِذَا ذُكِّرُوا ده بِايَتِ رَبِّهِم لَم يَخِرُوا عَلَيْهَا صَمَّا وَعَميَانًا وَالَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًاO (سورة الفرقان آیات ۷۳ تا ۷۵ ) ترجمہ۔اور وہ لوگ جو جھوٹی گواہی نہیں دیتے اور جب وہ لغویات کے پاس سے گزرتے ہیں تو وقار کے ساتھ گزرتے ہیں۔اور وہ لوگ کہ جب انہیں ان کے رب کی آیات یاد کروائی جاتی ہیں تو ان پر وہ بہرے اور اندھے ہو کر نہیں گرتے۔اور وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے ربّ! ہمیں اپنے جیون ساتھیوں اور اپنی اولا د سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا کر اور ہمیں متقیوں کا امام بنا دے۔ان آیات میں جو دعا سکھائی گئی ہے وہ اپنے اندر ایک عجیب دلکشی رکھتی ہے اور اس میں گہری حکمتیں پوشیدہ ہیں۔اس میں میاں بیوی دونوں کو یہ تعلیم دی گئی ہے کہ وہ باہم ایک دوسرے کے لئے اور اپنے بچوں کے لئے یہ دعا کرتے رہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ انہیں ایک دوسرے کی طرف سے اور بچوں کی طرف سے اطمینان اور مسرت کی نعمتوں سے سرفراز کرے اور ان کی اولاد اللہ تعالیٰ کا خوف رکھنے والی اور متقی نسلوں کی پیش رو اور امام ہو۔ایک شخص کو اس آیت کی اہمیت کا پوری طرح اندازہ بھی ہو سکتا ہے جب وہ اس تعلیم پر خود عمل کرتا ہو۔کسی چیز کے لئے ایک موہوم سی خواہش آپ کے کردار پر کوئی خاص اثر نہیں ڈال سکتی۔لیکن جب آپ پوری 128