اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 112 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 112

دیتا ہے۔جہاں تک اس سوال کے جواب کا تعلق ہے تو یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں اور غالباً اسلام کا یہی ایک پہلو ہے جس سے اہل مغرب کی بہت بڑی تعداد آشنا ہے۔اسلام کے جس دوسرے پہلو سے مغرب میں لوگ آگاہ ہیں وہ دہشت گردی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ دہشت گردی کا اسلام سے دُور کا بھی تعلق نہیں ہے۔(ملاحظہ ہو مقرر کی کتاب ”مذہب کے نام پر خون)۔ہے۔مذکورہ بالا سوال اس رنگ میں بھی پوچھا جاتا ہے کہ مرد اور عورت کے درمیان یہ کیسی مساوات ہے جو اسلام پیش کرتا ہے کہ مرد کو چار بیویوں کی اجازت ہے جبکہ عورت صرف ایک خاوند کر سکتی ہے۔میرا خیال ہے کہ ایسے سوالات اسلام کے متعلق وہ سارا اچھا تاثر زائل کرنے کے لئے پوچھے جاتے ہیں جو میں اس مجلس میں قائم کرتا ہوں۔نسبتا کم رسمی محفلوں میں جہاں شائستگی اور آداب کا زیادہ خیال نہیں رکھا جاتا وہاں یہ سوال استفسار کی بجائے تمسخر اور استہزاء کا رنگ اختیار کر لیتا ہے۔بہت عرصہ پہلے کی بات ہے جب میں لندن یونیورسٹی کے سکول آف اور پیٹل اینڈ افریقن سٹڈیز میں پڑھتا تھا وہاں ایک پاکستانی طالب علم کا اس کے انگریز ساتھی نے یہی سوال پوچھ پوچھ کر ناک میں دم کر رکھا تھا۔وہ ہر بار ایک قہقہہ لگا کر یہ سوال پوچھتا تھا۔مجھے یاد ہے جب ایک مرتبہ اس پاکستانی طالب علم کو بہت ہی دق کیا گیا تو اچانک اس نے پلٹ کر جواب دیا کہ تم ہماری چار ماؤں کے ہونے پر اعتراض کرتے ہو جبکہ تمہارے اپنے چار چار باپ ہوتے ہیں۔اس مفہوم کو ادا کرنے کے لئے اس نے کمال ذہانت سے Forefathers کا لفظ استعمال کیا یعنی آباؤ اجداد۔بولنے میں یہ لفظ ذو معنی ہے کیونکہ اس سے مراد Fourfathers یعنی چار باپ بھی لیا جا سکتا ہے۔پس اس طرح اس نے اپنے مدمقابل کو ایسی زک پہنچائی کہ اس انگریز کی ظاہری جیت ہار سے بدل گئی۔112