اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 111
سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں اور اس امر کا دعویٰ کرتے ہیں کہ مردوں کو عورتوں پر برتری حاصل ہے۔حالانکہ اس آیت میں مردوں کی صرف اس فضیلت کا ذکر ہے جو ایک کمانے والے کو اپنے زیر کفالت فرد پر حاصل ہوتی ہے۔اس لحاظ سے ایک نگران اور سر پرست اس بات کا ذمہ دار ہے کہ وہ اپنے زیر کفالت افراد کی بہتر رنگ میں اخلاقی تربیت کرے۔جہاں تک بنیادی انسانی حقوق کا سوال ہے اس آیت میں ہرگز یہ بیان نہیں کیا گیا کہ عورتیں مردوں کے برابر نہیں ہیں نہ ہی اس میں مردوں کی عورتوں پر برتری کا ذکر ہے۔البتہ آیت کے آخری حصہ میں مردوں کی اس فضیلت کا ذکر ہے جو بحیثیت نگران انہیں حاصل ہے۔اس سے یہ بات کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ عورتوں اور مردوں کے بنیادی حقوق بالکل مساوی ہیں۔اس لحاظ سے اس آیت میں مذکور عربی حرف و کا ترجمہ اس حقیقت کے باوجود کہ “ یا ” جبکہ ہوگا۔اس سیاق و سباق میں یہی درست ترجمہ ہے۔تعدد ازدواج مغرب میں اسلام کے موضوع پر بات کی جائے تو اکثر اوقات یہ سوال پوچھا جاتا ہے کہ کیا اسلام چار شادیاں کرنے اور بیک وقت چار بیویاں رکھنے کی اجازت دیتا ہے۔مجھے مغربی دنیا میں جلسوں اور چوٹی کے دانشوروں سے خطاب کرنے کا موقع ملتا رہتا ہے۔بہت کم ایسے مواقع مجھے یاد ہیں جب کہ اس قسم کا سوال نہ اٹھایا گیا ہو۔بارہا ایسا ہوا کہ کوئی نہ کوئی خاتون بڑے معذرت خواہانہ انداز میں اور بڑی معصومیت سے یہ سوال دہرایا کرتی ہیں کہ کیا واقعی اسلام چار شادیوں کی اجازت 111