اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 94 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 94

اسلامی معاشرہ کا مخصوص ماحول اسلام جس معاشرتی ماحول کو پیدا کرنا چاہتا ہے وہ مادہ پرستی کے مذکورہ بالا ماحول سے اتنا ہی مختلف ہے جتنا بہار کا موسم خزاں سے مختلف ہوتا ہے۔اسلام معاشرہ کا جو تصور پیش کرتا ہے اس میں انسان کی فطری خواہشات میں ایک اعتدال اور نظم و ضبط رکھا گیا ہے۔حد سے بڑھی ہوئی خواہشات کی روک تھام کی گئی ہے۔وجہ یہ ہے کہ اگر ان فطری خواہشات کو بے لگام چھوڑ دیا جائے تو انسانی جذبات اور خواہشات کا پورا نظام درہم برہم ہو کر رہ جاتا ہے۔اسلام خواہشات کی ایسی تکمیل کی حوصلہ شکنی کرتا ہے یا اسے ممنوع قرار دیتا ہے جس کا آخری نتیجہ یہ ہو کہ معاشرہ خوشیوں اور مسرتوں کی بجائے دکھوں سے بھر جائے۔اس کے ساتھ ساتھ اسلام نئے ذوق اجاگر کرتا ہے اور ایسے کاموں سے لذت و اطمینان حاصل کرنے کی صلاحیت کو بڑھاتا ہے جو ممکن ہے کہ ایک غیر مہذب اور غیر تربیت یافتہ انسان کو بے کیف اور بے لذت دکھائی دیں۔پس اسلام انسانی ذوق کو اعلیٰ سانچوں میں ڈھالتا ہے۔حیوانی خواہشات اور شہوات کی تربیت اور ان کی تہذیب و تعدیل کرتا ہے اور ادنیٰ خواہشوں کو اعلیٰ اور ارفع خواہشات میں بدل دیتا ہے۔سوال یہ ہے کہ یہ فیصلہ کیسے کیا جائے کہ موجودہ معاشرتی رجحانات معاشرہ کے لئے کس حد تک نقصان دہ ہیں۔میرے نزدیک اس سوال کا جواب بہت سادہ اور آسان ہے۔انسان کی صحت کی علامات کی طرح معاشرہ کی صحت کا اندازہ لگانے کے لئے بھی کچھ علامات ہوتی ہیں۔جب کوئی شخص کسی درد کے باعث بے چینی اور کرب میں مبتلا ہو اور اسے کسی پہلو قرار نہ آئے تو اسے بیمار قرار دینے کے لئے کسی ماہر طبیب یا بہت عقلمند انسان کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ ہر کوئی ان علامات کو دیکھ کر 94