اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 66
اور لوگوں کے معاشرتی اخلاق کی تشکیل میں عیسائیت کا کردار رفتہ رفتہ معدوم ہوتا چلا گیا ہے۔آج صورت حال یہ ہے کہ مغرب میں لوگوں کے اخلاق اور کردار پر عیسائیت کا محض اتنا ہی نقش باقی ہے جتنا کہ اکثر مسلم ممالک میں رہنے والے مسلمانوں پر اسلام کا۔افسوس یہ ہے کہ باقی دنیا میں بھی سماجی اور اخلاقی انحطاط کا یہی عالم ہے۔مختلف ممالک میں مہاتما بدھ ، حضرت کنفیوشس اور حضرت کرشن کے ماننے والے تو بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں مگر بدقسمتی یہ ہے کہ بدھ ازم، کنفیوشس ازم اور ہندو ازم کہیں نظر نہیں آتے۔یعنی سمندر چاروں طرف موجود ہے لیکن پیاس بجھانے کو ایک قطرہ بھی میسر نہیں۔اگر کسی معاشرہ سے مذہبی یا روایتی اخلاقی قدریں اٹھ جائیں تو پھر نئی نسل اپنے روایتی ورثہ کو آنکھیں بند کر کے قبول نہیں کیا کرتی۔اس کے لئے یہ قدریں بے معنی ہو کر رہ جاتی ہیں۔ایسی نسل کو لازما ایک ایسے نازک عبوری دور اور بحران میں سے گزرنا پڑتا ہے جس میں سوائے مایوس کن خلا کے اور کچھ بھی نہیں ہوتا۔نہ ہی کوئی اخلاقی تعلیم ان کے پاس ہوتی ہے۔تب جستجو کا ایک نیا سفر شروع ہوتا ہے۔لیکن منزل کا نہ کچھ پتہ ہوتا ہے اور نہ انجام کی کچھ خبر۔۔عین ممکن ہے کہ اس سفر میں انہیں کوئی بہتر ضابطہ اخلاق مل جائے مگر یہ بھی ممکن ہے کہ یہ جستجو انسان کو مکمل ابتری اور اخلاقی طوائف الملو کی کی طرف لے جائے۔جو حالات مجھے دکھائی دے رہے ہیں ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ بدقسمتی سے عصر حاضر کا معاشرہ یہی مؤخر الذکر راستہ اختیار کر چکا ہے۔آج دنیا کے سبھی معاشرے خواہ وہ مشرقی ہوں یا مغربی مذہبی ہوں یا غیر مذہبی انقلابات کی زد میں ہیں اور ان کے بداثرات نے ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔مگر المیہ یہ ہے کہ آج کا انسان اس بڑھتی ہوئی اخلاقی عفونت کے متعلق اتنا فکر مند نہیں جتنا مادی فضاؤں کی 66 99