اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 263 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 263

کا فیصلہ تھا جو اکثریت پر مسلط کر دیا گیا۔ایک ممکنہ صورت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ حکمران پارٹی کچھ انتخابی حلقوں میں دوسری پارٹیوں کی نسبت معمولی اکثریت حاصل کر کے اقتدار میں آ جائے جبکہ دراصل اسے حقیقی اکثریت حاصل نہ ہو۔اسی طرح اگر انتخابات میں ڈالے گئے ووٹوں کا تناسب کم رہے تو بھی یہ بات مشکوک ہو جاتی ہے کہ حکمران پارٹی کو واقعی اکثریت کی حمایت حاصل ہے۔پھر ایک سیاسی جماعت اگر مجموعی طور پر باقی جماعتوں سے زیادہ ووٹ حاصل کر بھی لیتی ہے تب بھی اس کے اقتدار کے دوران کئی ایسے واقعات رونما ہو سکتے ہیں جن سے صورت حال یکسر بدل جائے۔مثلاً رائے عامہ کلیہ تبدیل ہو سکتی ہے جس کے نتیجہ میں حکمران جماعت اکثریت کی حقیقی نمائندہ ہی نہیں رہتی۔عوام میں بتدریج ہونے والی ذہنی تبدیلی بالآخر حکومت کی تبدیلی کے وقت صاف نظر آنے لگتی ہے۔اگر عوام میں حکومت کی مقبولیت برقرار بھی رہے تب بھی یہ کوئی بعید از قیاس بات نہیں ہے کہ اہم فیصلے کرتے ہوئے حکمران پارٹی کے ساتھ اپنی وفاداری نبھانے کی خاطر اس فیصلہ کے حق میں اپنا ووٹ دیا ہو۔اب اگر مخالف جماعتوں کے بالمقابل حکمران جماعت کے اپنے اراکین میں اختلاف پایا جاتا ہے تو بسا اوقات ایسا ہوگا کہ اکثریتی جماعت کا فیصلہ در حقیقت ایک اقلیت کا فیصلہ ہو گا جسے عوام پر ٹھونسا جائے گا۔یہ بات بھی قابل غور ہے کہ عوام کے مفاد کا تصور اور اچھے اور برے کا تصور وقت کے ساتھ ساتھ بدلتا بھی رہتا ہے اس لئے اگر فیصلے ابدی اور دائمی اصولوں کی بنیاد پر نہ کئے جائیں بلکہ فرد واحد کی صوابدید یا ایک پارٹی کی پسند نا پسند کی روشنی میں عوامی بہبود کے فیصلے ہوں تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ پالیسی ہمیشہ تبدیل ہوتی رہے گی۔جو کچھ آج اچھا دکھائی دے رہا ہے ہوسکتا ہے کہ کل کو برا نظر آنے لگے اور جو کل برا ہے وہ پرسوں 263