اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 262
اللہ تعالیٰ کے منتخب کردہ ہوتے ہیں یا کسی قسم کے تقدس کے حامل ہوتے ہیں۔یہ غلط تصور قرون وسطی میں عیسائیت کے قائم کردہ نظام میں عام ہو چکا تھا مگر قرآن کریم ہرگز اس کی تائید نہیں کرتا مثلا رچرڈ بادشاہ یہ نوحہ کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے کہ: Not all the waters of rough rude seas can wash the balm of an annointed king۔(Shakespeare) یعنی سارے سمندروں کا کھارا پانی بھی اس مرہم کو نہیں دھو سکتا جو مقدس بادشاہ کے ہاتھ کا لگایا ہوا ہے (شیکسپیر) جمہوریت کیا ہے؟ جمہوریت کا تصور اگرچہ یونانی ہے لیکن ابراہیم لنکن نے جمہوریت کی جو مندرجہ ذیل مختصر تعریف کی ہے وہی اس کی بنیاد ہے Government of the people, by the people, for the people۔یعنی جمہوریت نام ہے اس حکومت کا جو عوام کی حکومت ہو عوام کے ذریعہ ہو اور عوام کے لئے ہو۔ہے تو یہ ایک گھسا پٹا مقولہ لیکن ہے دلچسپ جو شاید ہی کبھی دنیا میں کسی حکومت پر صادق آیا ہو۔اس تعریف کا آخری حصہ یعنی ” عوام کے لئے حکومت ایک بالکل مبہم سی بات ہے اور اس میں کئی قسم کے خطرات پوشیدہ ہیں۔کیا کسی حکومت کے متعلق ہم وثوق سے کیسے کہہ سکتے ہیں کہ یہ عوام کے لئے ہے؟ اقتدار اکثریت کے پاس ہو تو عوام سے مراد صرف اکثریت ہے نہ کہ اقلیت۔جمہوری طرز حکومت میں اہم نوعیت کے فیصلے محض اکثریت کے بل بوتے پر کر لئے جاتے ہیں۔لیکن اگر تمام حقائق اور اعداد و شمار کا بغور جائزہ لیا جائے اور ان کا تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ در حقیقت یہ تو جمہوری طرز پر منتخب کردہ ایک اقلیت 262