اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 218 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 218

مایوسیاں اور ناکامیاں پیدا ہوتی ہیں وہ بے گھر لوگوں کی تعداد میں اضافہ کر دیتی ہیں، محرومیاں بڑھ جاتی ہیں، دھوکہ دہی اور جرائم میں اضافہ ہو جاتا ہے۔اگر یہ سب کچھ در حقیقت دنیا میں واقع ہو جاتا ہے تو کسی کو حیران ہونے کی ضرورت نہیں ہے خصوصاً سرمایہ دارانہ نظام کے علمبرداروں کے لئے تو اس میں حیرت کی کوئی بات ہی نہیں ہے۔سرمایہ دارانہ نظام معیشت میں یہ صورت حال ان افراد تک ہی محدود نہیں رہتی جنہیں اس قدر قرض دیا گیا ہو کہ واپس کرنا ان کی استطاعت سے باہر ہو جائے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اس عمل سے سارے صنعتی مستقبل کو ایک حد تک فائدہ بھی ہوتا ہے۔اپنے ملک میں تیار کی جانے والی مصنوعات کی قیمت کم کرنے میں مدد ملتی ہے اور صارفین کے ہاتھوں میں دولت آ جانے سے ان کی قوت خرید میں اضافہ ہو جاتا ہے۔اس کا اثر قومی صنعت کی پیداواری صلاحیت پر پڑتا ہے۔طلب میں اضافہ کے نتیجہ میں پیداوار میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے اور اس طرح یہ اضافہ قیمتوں میں کمی کا باعث بنتا ہے اور قومی صنعت عالمی منڈی میں بہتر مقابلہ کرنے کے قابل ہو جاتی ہے۔بظاہر یہ نظارہ بڑا ہی دلکش اور امید افزا نظر آتا ہے لیکن جلد ہی یہ حسین منظر ایک خواب پریشان کا روپ دھار لیتا ہے۔ایک وقت آتا ہے کہ سارا معاشرہ اپنی بے صبری اور آمد سے بڑھ کر خرچ کرنے کے باعث بینکوں کے قرض میں جکڑا جاتا ہے معاشرہ کی قوت خرید کم ہوتے ہوتے اپنی آخری حد تک پہنچ جاتی ہے۔اس صورت میں ملکی صنعت کے پاس اپنی بقا کے لئے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا کہ وہ بیرونی منڈیاں تلاش کرے بصورت دیگر کوالٹی اور قیمتوں کے لحاظ سے دوسروں کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ملک کی اقتصادی بنیاد جس قدر چھوٹی ہو گی اسی قدر جلد صنعتی ترقی کا سفر ایک ایسے مقام پر آ کر رک جائے گا جہاں سے آگے کوئی راستہ دکھائی نہیں 218