اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 216
اٹھانا پڑا تھا حالانکہ ابھی یہ قرض سود کے بغیر تھا۔ہوا یہ ہے کہ اس نے اپنے مستقبل کے ایک سو ماہ یعنی آٹھ سال چار ماہ سے یہ رقم ادھار لی ہے تا کہ اسے اس سارے عرصہ کے آغاز میں ہی خرچ کیا جا سکے۔اس کا فائدہ اسے صرف یہ ہوا کہ آٹھ سال تک انتظار کرنے کی بجائے اس کی خواہش کی فوری تکمیل ہو گئی اور اس کی بے صبری کو قرار آ گیا۔لیکن اگر اسے چالیس ہزار کے قرض پر سود بھی ادا کرنا پڑتا ہے تو پھر وہ اس سے کہیں زیادہ بدتر حالت کا شکار ہو جائے گا۔مثال کے طور پر اگر شرح سود چودہ فیصد ہے تو اس کا کل قرض جو اس نے واپس کرنا ہے اس اصل رقم سے کہیں زیادہ بنتا ہے جو اس نے قرض لی تھی۔پس اس کی قرض واپس کرنے کی طاقت مزید کم ہو جائے گی اور عرصہ ادا ئیگی بہت طویل ہو جائے گا۔ایسے شخص کو قریباً بیس سال تک صبر کے ساتھ اپنی بے صبری کی سزا بھگتنی پڑے گی۔اسے ماہانہ پانچ سو ڈالر کے حساب سے قرض واپس کرنا پڑے گا اور سود در سود کی وجہ سے تقریباً ایک لاکھ ہیں ہزار ڈالر کی ادائیگی کرنی ہوگی۔اب دیکھئے نقصان یقینی طور پر قرض خواہ کو نہیں بلکہ قرض دار کو اٹھانا پڑے گا۔قرض خواہ تو ایک بہت بڑے طاقتور استحصالی نظام کا حصہ ہے جو افراط زر اور قرض کے ضائع ہو جانے کے امکانات کا جائزہ لینے کے بعد ہی اس ضمانت پر قرض دیتا ہے کہ آخر کار اس کی تجوری اور زیادہ بھر جائے گی۔مگر افراطِ زر کے نتیجہ میں قرض لینے والوں کی حالت پہلے سے بھی بدتر ہو جائے گی اور اس کی قوت خرید میں مسلسل کمی ہوتی چلی جائے گی۔اگر پہلے چھ سو ڈالر ماہوار میں بمشکل گزارہ ہوتا تھا تو اب اتنی رقم میں گزارہ کرنا بالکل ناممکن ہو جائے گا۔اور اتنے خوش قسمت تو کم لوگ ہی ہوں گے جن کی سالانہ آمد میں اسی قدر اضافہ بھی ہو جائے جس قدر افراط زر کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔ایک ایسے معاشرہ میں جہاں لوگ مادی لذات کے حد سے زیادہ متلاشی ہو چکے ہوں 216