اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 211 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 211

ضرور ہے۔حکومت سے کہا جا رہا ہے کہ قومی معیشت کی بقا کے لئے افراطِ زر کے رجحان کو بلند شرح سود کے ذریعہ کم کرنا بے حد ضروری ہے۔دراصل یہ محض بہانہ سازی ہے۔کہیں ایسا تو نہیں کہ اگر شرح سود میں اس وقت کمی کی گئی تو موجودہ حکومت کے مفاد کو نقصان پہنچے گا ؟ لگتا ہے کہ شرح سود میں کمی فی الحال معرض التوا میں ڈال کر آئندہ انتخابات سے ذرا پہلے اس کا اعلان کر دیا جائے گا اور اس طرح لوگوں کو جو سکھ کا سانس آئے گا یقیناً اس سے کنزرویٹو حکومت کو سیاسی مفاد حاصل ہو گا۔لیکن اگر یہی کمی قبل از وقت کر دی گئی تو اندیشہ ہے کہ وہ ثانوی اثرات ظاہر ہونا شروع ہو جائیں گے جن کی طرف پہلے اشارہ کیا جا چکا ہے۔اس صورت میں شرح سود میں تخفیف سے حاصل ہونے والا وقتی سکون سیاسی مفاد کو برباد کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔بعض عوامل جن کے باعث یہ نقصان دہ صورت حال پیدا ہو چکی ہے درج ذیل ہیں: (۱) بلند شرح سود نے نہ صرف عام لوگوں کی قوت خرید کو بے حد کمزور کر دیا ہے بلکہ صنعت و حرفت کا گلا گھونٹ کر رکھ دیا ہے۔(ب) بلند شرح سود نے بنیادی ضروریات زندگی کے حصول کے لئے برطانوی لوگوں کی بڑی تعداد کو بری طرح متاثر کیا ہے۔سر چھپانے کے لئے چھت تعمیر کرنی ہو تو لوگ خوب سوچ سمجھ کر قرض لیتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ قرض کی اقساط ادا کرنے کے لئے انہیں اپنی روز مرہ کی ضروریات کو قربان کرنا پڑے گا۔یہ لوگ تو غیر ضروری اور فضول اخراجات کے پہلے ہی متحمل نہیں تھے۔برطانوی معاشرہ کا یہ طبقہ یقیناً افراط زر کے رجحان کا ذمہ دار قرار نہیں دیا جاسکتا۔بدقسمتی سے یہ وہ لوگ ہیں جنہیں افراط زرکو روکنے کے لئے کئے جانے والے نام نہاد اقدامات کی سخت سزا 211