اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 185
یہ بحث اٹھائی جا سکتی ہے کہ جس نے دولت کمائی ہے وہ جیسے چاہے اس کے ذریعہ لذت حاصل کرے کسی دوسرے شخص کو اس میں دخل اندازی کا کیا حق پہنچتا ہے۔جیسے کوئی خوش ہوتا ہے اسے ہونے دیں۔معاشرہ کو فرد کی آزادی میں اس حد تک دخل اندازی کا کوئی حق نہیں ہے کہ وہ اسے یہ بتائے کہ وہ اپنی کمائی ہوئی دولت کو کہاں اور کیسے خرچ کرے۔لیکن یہ یاد رکھنا چاہئے کہ مذہبی تعلیم کا اکثر حصہ وعظ ونصیحت اور تنبیہ کے انداز میں ہوتا ہے۔دنیا کی زندگی تک کسی مذہب کی تعلیم میں بھی کوئی جبر شامل نہیں ہے سوائے اس کے کہ کوئی دوسرے کے خلاف جرم کا ارتکاب کرے اور جرائم سے مراد بھی وہ جرائم ہیں جو غیر مذہبی نقطہ نظر سے بھی قابل دست اندازی ہیں مثلاً قتل، چوری، دھوکہ دہی ، بدعنوانی ، حق تلفی وغیرہ۔مگر مذاہب کے نزدیک ان کے علاوہ بھی ایسے سماجی جرائم ہیں جو بحیثیت مجموعی سارے معاشرہ کے لئے سخت نقصان دہ ہیں۔ان جرائم کی سزا افراد کو تو نہیں دی جاتی مگر ان کے نتیجہ میں سارا معاشرہ سزا بھگتا ہے۔اور یہ سزا دراصل وسیع تر معاشرتی قوانین کے ذریعہ ملتی ہے۔یہ کوئی حیران کن بات نہیں کہ شراب نوشی اور جوئے کی بد عادات میں مبتلا افراد بہت جلد سارے معاشرہ کے لئے ایک مصیبت بن جاتے ہیں۔یہاں تک کہ پھر سارا معاشرہ ہی اس قابل نہیں رہتا کہ وہ اپنے اخراجات پورے کر سکے۔قومی دولت کا ایک بڑا حصہ مسلسل ضائع ہوتا چلا جاتا ہے۔ایسے ماحول میں لوگوں کی مایوسیاں اور ناکامیاں بھی بڑھتی چلی جاتی ہیں۔جوئے اور شراب نوشی کے ساتھ جرائم میں بھی اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔عائلی زندگی کا سکون برباد ہو جاتا ہے۔ایسے گھروں کے دکھ شراب نوشی کا بالواسطہ نتیجہ ہیں جو ہمیشہ بڑھتے چلے جاتے ہیں۔کئی گھر براہ راست شراب نوشی اور جوئے بازی کی نذر ہو جاتے ہیں اور کتنے ہی ازدواجی بندھن ان عادات کی وجہ سے ٹوٹ جاتے ہیں۔185