اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 171
گے۔ولا تمنن تستكثر (سورۃ المدثر آیت ۷ ) ترجمہ۔اور زیادہ لینے کی خاطر احسان نہ کیا کر۔اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ اگر آپ نے کسی پر احسان کیا ہے تو اسے یوں بھول جائیں جیسے کچھ بھی نہیں ہوا۔احسان جتانا اور نیکی پر فخر کرنا اور اسے بڑھا چڑھا کر بیان کرنا نیکی کو برباد کر دیتا ہے۔ایک حقیقی مومن ہرگز ایسا نہیں کرتا۔اس کا طرز عمل درج ذیل آیات میں بیان کیا گیا ہے۔یہ آیات غلط اور صحیح طرزعمل میں بڑا جامع موازنہ پیش کرتی ہیں۔مَثَلُ الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللهِ كَمَثَلِ حَبَّةِ أَنْبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِي 280 28 كُل سُنْبُلَةٍ سَائَةُ حَبَّةٍ ، وَاللهُ يُضْعِفُ لِمَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ الَّذِيْنَ طا ط يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيْلِ اللهِ ثُمَّ لاَ يُتَّبِعُونَ مَا أَنْفَقُوا مَنَّا وَلَا أَذًى ا لَّهُمْ ووه 28 وده وه لا آجرهم عِندَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَO قَوْل مَعْرُوفَ " وَ مَغْفِرَة خَيْرٌ مِنْ صَدَقَةٍ يَتْبَعُهَا أَذًى ، وَاللهُ غَنِي حَلِيمٌ يَا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تُبْطِلُوا صَدَقَتِكُمْ بِالْمَنِّ وَالَّا ذِى كَالَّذِي يُنْفِقُ مَا لَهُ رِئَاءَ النَّاسِ وَلَا يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ صَفْوَان عَلَيْهِ تُرَابٍ فَأَصَابَهُ، وَابل فَتَرَكَهُ صَلْدَاء لَا يَقْدِرُونَ عَلَى شَيْءٍ مِّمَّا كَسَبُوا وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ ط ( سورة البقرة آیات ۲۶۲ تا ۲۶۵) ترجمہ۔ان لوگوں کی مثال جو اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ایسے بیج کی طرح ہے جو سات بالیں اگا تا ہو۔ہر بالی میں سو دانے ہوں۔اور اللہ جسے چاہے (اس سے بھی ) بہت بڑھا کر دیتا ہے۔اور اللہ وسعت عطا کرنے والا (اور ) دائمی علم رکھنے والا ہے۔وہ لوگ جو اپنے 28 171