اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 81
اور حیات آخرت کا شعوری طور پر انکار کر دیتا ہے تو پھر انحطاط اور اعلیٰ اقدار کی پامالی کا سفر بڑی سرعت کے ساتھ اپنے منتہی کو پہنچ جاتا ہے۔تہذیب انسانی کا سفر ہمیشہ سے عدم شائستگی اور اجڈ پن سے شائستگی کی طرف ہوتا چلا آیا ہے۔تاریخ انسانی کے ہر دور اور ہر خطہ ارض میں یہی اصول کارفرما نظر آتا ہے۔انسانی کردار کے بنیادی اور جبلی محرکات اور تقاضے تبدیل نہیں ہوا کرتے البتہ ان محرکات اور تقاضوں کی تکمیل اور تسکین کے طریق اور ذرائع بدلتے رہتے ہیں۔مثلاً پیٹ تو گوشت یا سبزی کھا کر بھرا جا سکتا ہے مگر غذا کی اقسام اور معیار میں بڑا فرق ہو سکتا ہے۔سبزی اور گوشت تازہ بھی ہو سکتے ہیں اور باسی بھی۔انہیں مختلف طریقوں سے پکا کر اور اگر کوئی چاہے تو کچا بھی کھا سکتا ہے۔معاشرتی ارتقاء کے ساتھ ساتھ انسانی خواہشات کی تکمیل کے انداز بھی بدلتے رہتے ہیں اور پہلے سے زیادہ شائستہ لطیف اور پر تکلف ہوتے چلے جاتے ہیں۔ترقی کے اس جاری عمل کی رفتار کا دارو مدار بڑی حد تک لوگوں کے معاشی حالات اور سیاسی عوامل پر ہوا کرتا ہے۔تا ہم معاشرہ کے اعلیٰ طبقات ہر اول دستے کے طور پر ہمیشہ آگے سے آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں۔اگر چہ ان کے سفر کی رفتار گھٹتی بڑھتی رہتی ہے تا ہم جب اس تہذیبی ارتقاء کا سفر بلوغت اور کمال کو پہنچتا ہے تو حد سے بڑھا ہوا تکلف اور تصنع اور بعض دیگر منفی عوامل ترقی کے اس رجحان کا رخ تنزیل کی جانب پھیر دیتے ہیں۔نتیجه زوال پذیر معاشروں کی تہذیبی گنگا لطافت سے کثافت کی طرف الٹی بہنی شروع ہو جاتی ہے اور اس کا رخ اعلیٰ سے ادنی کی طرف مڑ جاتا ہے۔یہ ایک بہت وسیع مضمون ہے اور تفصیلی مطالعہ کا متقاضی ہے۔مجھے افسوس ہے کہ آج کے خطاب میں اتنی تفصیل کی گنجائش نہیں ہے۔تاہم میں چند نکات کی وضاحت کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔81