اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 57 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 57

وقت انہیں اپنے اصولوں کے بارہ میں کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی کیونکہ باہمی احترام تو بنیادی انسانی حقوق سے تعلق رکھنے والا معاملہ ہے۔ہر انسان کے اس بنیادی انسانی حق کو تسلیم کرنا ضروری ہے کہ اس کے مذہبی احساسات اور جذبات کو کسی صورت بھی ٹھیس نہ پہنچائی جائے اور اس کی دل آزاری نہ ہو۔(۳) یہ یاد رکھنا چاہئے کہ پیشوایان مذاہب کے احترام کے اصول کو کسی قومی یا بین الاقوامی قانون کے ذریعہ نافذ نہیں کیا جا سکتا۔مذہبی تو ہین کو ایک ذلیل حرکت قرار دینے کے لئے اور اس کی حوصلہ شکنی کے لئے رائے عامہ کو بیدار کرنا چاہئے تا کہ وہ ایسے غیر شائستہ ، نامعقول اور قبیح فعل کی مذمت کرے۔(۴) اس صدی کے اوائل میں جماعت احمدیہ نے جس طرز پر بین المذاہب کا نفرنسوں کے انعقاد کا سلسلہ شروع کیا تھا ایسی کانفرنسوں کے وسیع پیمانے پر انعقاد کی حوصلہ افزائی ہونی چاہئے اور انہیں رواج دینا چاہئے۔ایسی کانفرنسوں کی جو خصوصیات ہونی چاہئیں وہ خلاصہ درج ذیل ہیں۔(۱) تمام مقررین کو چاہئے کہ وہ اپنے اپنے مذہب کی دلکش اور امتیازی خوبیاں بیان کریں اور دوسرے مذاہب پر کیچڑ نہ اچھالیں۔(ب) مقررین کو چاہئے کہ وہ پوری ایمانداری اور اخلاص سے دوسرے مذاہب کی خوبیوں کو تلاش کرنے کی کوشش کریں اور پھر انہیں اپنی تقاریر میں بیان کریں اور یہ بھی بتائیں کہ وہ ان خوبیوں سے متاثر ہیں۔(ج) مقررین کو دیگر بانیان مذاہب اور مذہبی رہنماؤں کی سیرت اور کردار کو خراج تحسین پیش کرنا چاہئے۔مثلاً ایک یہودی مقرر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے امتیازی اوصاف بیان کر سکتا ہے یعنی ایسے اوصاف جن کی سب لوگ اپنے مذہبی عقائد سے کوئی سمجھوتہ کئے بغیر تعریف کر سکتے ہیں۔ایسے ہی ایک مسلمان مقرر 57