اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 56 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 56

یہود و نصاریٰ کے نازک اور حساس اقتصادی و سیاسی تعلقات اور ان میں بگاڑ کا مخفی رجحان دراصل انہی پوشیدہ خطرات کی نشان دہی کرتے ہیں۔یہ خطرات مذہبی دنیا میں خوابیدہ آتش فشاں پہاڑوں کی طرح ہیں جو کسی بھی وقت پھٹ سکتے ہیں۔ان مسائل کے متعلق ذہنی رویوں میں اصلاح کرنے کی اہمیت اتنی واضح ہے کہ اس پر مزید زور دینے کی ضرورت نہیں ہے۔اسلام ان مسائل کا کیا حل پیش کرتا ہے؟ اس پر تفصیلی بحث گزر چکی ہے۔ذیل میں اس بحث کے اہم نکات کو مختصر طور پر بیان کر کے میں اس حصہ کو ختم کرتا ہوں۔(۱) دنیا کے تمام مذاہب کو خواہ وہ اسلام کو سچا مذہب تسلیم کرتے ہیں یا نہیں اس بنیادی اسلامی اصول پر عمل پیرا ہونا چاہئے کہ اندرونی فرقہ وارانہ جھگڑوں اور دوسرے مذاہب کے ساتھ تنازعات حل کرنے کے لئے طاقت اور جبر کے استعمال کی کسی صورت میں بھی اجازت نہیں دی جائے گی۔ہر شخص کو مذہبی آزادی کی ضمانت دی جائے گی۔مذہبی آزادی میں کسی شخص کو کوئی مذہب اختیار کرنے یا نہ کرنے اپنے عقیدہ کا اعلان کرنے ، اس پر عمل اور اس کی تبلیغ کرنے، کسی عقیدہ کو غلط کہنے یا اسے ترک کرنے یا اپنا عقیدہ بدلنے کی پوری آزادی ہوگی اور اس آزادی کا پورا تحفظ کیا جائے گا۔(۲) تمام اہل مذہب کے لئے کم از کم اس اسلامی اصول کی پابندی لازمی ہوگی کہ وہ تمام بانیان مذاہب اور ہر مذہب کے بزرگوں کا احترام کریں۔دیگر مذاہب خواہ سچائی کے اسلامی تصور اور اس کی آفاقیت کے قائل نہ بھی ہوں، یہودیت، عیسائیت، بدھ ازم، کنفیوشس ازم، ہندو ازم ، زرتشت ازم وغیرہ کے نقطہ نظر سے خواہ باقی مذاہب جھوٹے ہی کیوں نہ ہوں اور خدا سے ان کا کوئی بھی تعلق نہ ہو تب بھی ہر مذہب کے مقدس لوگوں کا احترام کرنا ان کے لئے لازمی ہوگا۔اگر چہ ایسا کرتے 56 60