اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 44 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 44

اس مقصد کے لئے وہ کوئی ایسا راستہ اختیار کرنے کے حق میں نہیں جس سے افراتفری اور فتنہ و فساد پیدا ہو۔اسلام اس امر کی حمایت نہیں کرتا کہ ان تمام معاشرتی عوارض کو دور کرنے کے لئے ایک ایسے اندھے انتقام کا دروازہ کھول دیا جائے جس سے بے گناہ اور معصوم لوگ بھی مارے جائیں۔اس سلسلہ میں اسلام کا پیغام یہ ہے کہ (سورۃ البقرہ آیت ۲۰۶) وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ الْفَسَادَ ترجمہ۔اور اللہ فساد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔اسلام ہر دوسرے مذہب کی طرح متوازن آزادی پر زور دیتا ہے۔اسلام کے نزدیک آزادی کی عمارت ” کچھ لو کچھ دو“ کی بنیاد پر استوار ہونی چاہئے۔یعنی فرد معاشرہ کے لئے کچھ ذمہ داریاں اٹھائے اور معاشرہ فرد کو کچھ حقوق عطا کرے۔معاشرہ کے حوالے سے مطلق آزادی کا نعرہ بالکل کھوکھلا بے معنی، غیر فطری اور غیر حقیقی نعرہ ہے۔بعض اوقات آزادی کے ایسے غلط معنی لئے جاتے ہیں اور اس کے تصور کو اتنا غلط استعمال کیا جاتا ہے کہ آزادی تقریر کا حسین اصول بے حد بدنما اور بدصورت بن کر رہ جاتا ہے۔گالی گلوچ ، دوسروں کی عزت و آبرو پر حملے اور پاک اور مقدس وجودوں کی تو ہین آخر کہاں کی آزادی ہے؟ مذہبی تقدس کی پامالی جہاں تک اظہار و بیان کی آزادی کا تعلق ہے اسلام نے دوسرے مذاہب کے مقابلہ میں ایک قدم اور آگے بڑھایا ہے۔مذہبی تقدس کی تو ہین بلاشبہ اخلاقی اعتبار سے قابل مذمت ہے مگر اسلام نے اس کی کوئی ظاہری سزا مقر ر نہیں کی۔اس دور میں اگر چه عام طور پر تو یہی خیال کیا جاتا ہے کہ مذہبی توہین کی اسلام نے سزا مقرر کی ہے 44