اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 43 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 43

نیز فرمایا: أمْ لَكُمْ سُلْطَنٌ مُّبِينٌ، فَأْتُوا بِكِتِبِكُمْ إِنْ كُنتُمْ صَدِقِينَ ( سورة الصافات آیات ۱۵۸٬۱۵۷) ترجمہ۔یا تمہارے پاس کوئی غالب (اور ) روشن دلیل ہے؟ پس اپنی کتاب لا ؤ اگر تم سچے ہو۔آزادی کی حدود آج ساری دنیا آزادی کے نعروں سے گونج رہی ہے۔ان نعروں کی شدت کہیں کم ہے اور کہیں زیادہ۔دنیا کے مختلف حصوں میں ان نعروں کا مفہوم بھی مختلف لیا جاتا ہے لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ آزادی کی قدر و قیمت اور اہمیت کے متعلق انسان کا علم اور شعور بڑھ رہا ہے اور ہر جگہ حریت اور آزادی کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ انسان کس چیز سے آزادی کا متمنی ہے؟ کیا وہ غیر ملکی تسلط سے رہائی چاہتا ہے؟ کیا وہ آمریت، فسطائیت، مذہبی ملائیت یا یک جماعتی آمرانہ نظام سے آزادی کا طالب ہے؟ کیا وہ ظالم اور ستم ڈھانے والی جمہوریتوں کے ہاتھوں تنگ ہے یا بدعنوان نوکر شاہی کا ستایا ہوا ہے؟ کیا آج کا انسان اس لئے پریشان حال ہے کہ غریب ممالک امیر ممالک کے اقتصادی چنگل میں بری طرح پھنسے ہوئے ہیں؟ کیا وہ جہالت اور تو ہم پرستی سے نجات چاہتا ہے؟ کیا وہ جنسی لذات کی پرستش سے تنگ آچکا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ آج انسانیت کو ان سب مصائب سے آزادی کی ضرورت ہے۔اسلام ان تمام دکھوں اور مصیبتوں سے انسان کو رہائی دلانے کا علمبر دار ہے لیکن 43