اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 25
ترجمہ۔یقیناً وہ لوگ جو ایمان لائے اور جو یہودی ہوئے اور صابی اور نصرانی جو بھی اللہ پر ایمان لایا اور یوم آخر پر اور نیک عمل بجا لایا ان پر کوئی خوف نہیں اور وہ کوئی غم نہیں کریں گے۔اہل کتاب کی اصطلاح اگر چہ بالعموم یہود و نصاریٰ کے لئے استعمال ہوتی ہے لیکن درحقیقت اس کا دائرہ بہت وسیع ہے۔قرآن کریم کی آیت کہ ” کوئی قوم ایسی نہیں گزری جس میں کوئی ہوشیار کرنے والا نہ آیا ہو اور اس مضمون کی دیگر آیات جن کا پہلے ذکر کیا جا چکا ہے ان سب کی روشنی میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں رہتی کہ عہد نامہ قدیم اور عہد نامہ جدید یعنی تورات اور انجیل ہی صرف الہامی کتب نہیں تھیں بلکہ بنی نوع انسان کی بھلائی اور رہنمائی کے لئے یقینا بعض اور کتب بھی نازل کی گئی تھیں۔اس لحاظ سے وہ تمام مذاہب جو یہ دعوی کرتے ہیں کہ ان کی بنیاد وحی الہی پر ہے ان کے ماننے والے بھی اہل کتاب میں شامل سمجھے جائیں گے۔مزید برآں اہل عرب ”صابی کی اصطلاح ان تمام غیر عرب اور غیر سامی (non-semitic) مذاہب کے پیروؤں کے لئے استعمال کرتے تھے جن کے پاس ان کی اپنی الگ الگ الہامی کتابیں تھیں۔پس وحی الہی پر مبنی تمام مذاہب کے ماننے والوں کو یقین دلایا گیا ہے کہ اللہ انہیں کوئی سزا نہیں دے گا اور نہ ہی وہ نجات سے محروم رکھے جائیں گے۔لیکن شرط یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے بھیجے ہوئے نئے مذاہب کو شناخت نہ کر سکنے کا ان کے پاس کوئی حقیقی اور جائز عذر ہو۔نیز وہ اپنے آباء و اجداد کے مذاہب کی اقدار پر سچائی اور دیانت داری کے ساتھ قائم ہوں۔قرآن مجید اپنے اپنے مذہب پر پورے خلوص سے عمل کرنے والی ہر جماعت سے خواہ وہ یہود و نصاریٰ میں سے ہو یا صابی ہو یہ وعدہ کرتا ہے:۔فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (سورۃ البقرہ آیت ۶۳ ) 25 25