اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 310
یہی وہ نکتہ ہے جسے قرآن کریم نے بار بار مختلف زاویوں سے بیان کیا ہے جس کی چند مثالیں درج ذیل ہیں۔وَالشَّمْسِ وَضُحَهَا وَالْقَمَرِ إِذَا تَلْهَا وَالنَّهَارِ إِذَا جَلْهَا ۖ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَهَا وَالسَّمَاءِ وَمَابَنْهاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا طَعْهَا وَنَفْسٍ وَمَا سَوْهَا فَالْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقُوهَا قَدْأَفْلَحَ مَنْ زَكَهَا وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسَهَا (سورة الشمس آیات ۲ تا ۱۱) ترجمہ: قسم ہے سورج کی اور اس کی دھوپ کی۔اور چاند کی جب وہ اس کے پیچھے آئے۔اور دن کی جب وہ اس (یعنی سورج) کو خوب روشن کر دے۔اور رات کی جب وہ اسے ڈھانپ لے اور آسمان کی اور جیسے اُس نے اُسے بنایا۔اور زمین کی اور جیسے اُس نے اُسے بچھایا۔اور ہر جان کی اور جیسے اس نے اسے ٹھیک ٹھاک کیا۔پس اس کی بے اعتدالیوں اور اسکی پر ہیز گاریوں ( کی تمیز کرنے کی صلاحیت) کو اس کی فطرت میں ودیعت کیا۔یقیناً وہ کامیاب ہو گیا جس نے اس تقویٰ) کو پروان چڑھایا۔اور نامراد ہو گیا جس نے اسے مٹی میں گاڑ دیا۔یک وَسَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِي السَّمَوتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِّنْهُ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَايَتِ لقَومٍ يَتَفَكَّرُونَ ( سورة الجاثیہ آیت (۱۴) ترجمہ:۔اور جو بھی آسمانوں میں اور زمین میں ہے اس میں سے سب اس نے تمہارے لئے مسخر کر دیا۔اس میں غور و فکر کرنے والوں کے لئے یقیناً کھلے کھلے نشانات ہیں۔أَلَمْ تَرَوْا أَنَّ اللَّهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِى السَّمواتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَأَسْبَغَ عَلَيْكُم نِعَمَهُ ظَاهِرَةً وَبَاطِنَةً وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يُجَادِلُ فِي اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَلَا هُدًى ولا كتب سيره (سورۃ لقمان آیت ۲۱) 310