اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 309
سامنے جو تمام کا ئنات میں جلوہ گر ہے سرتسلیم خم کرے بلکہ بنی نوع انسان کی اس حقیقی مقصد کی طرف راہنمائی بھی کرے یا کم از کم ان لوگوں کے لئے اس راہ پر چلنا ممکن بنا دے جو واقعی اللہ تعالیٰ کی اتباع کرنا چاہتے ہیں۔اگر کچھ دیر کے لئے فرض کر لیا جائے کہ تخلیق کائنات کا کوئی مقصد نہیں تو اسی لمحہ پیدائش کا ئنات کا جواز ہی ختم ہو جاتا ہے۔اس حقیقت کو سمجھنے کے لئے ایک سادہ سی مثال دی جا سکتی ہے۔ایک پھل دار درخت لگانے ، اس کی آبیاری، دیکھ بھال اور تراش خراش کا مقصد اس درخت کا پھل ہی تو ہے۔اگر پھل نہ ہو تو درخت بھی نہ ہو۔اگر مقصد کا حصول نہ ہو تو پودا لگانے اور اس کی دیکھ بھال اور پرورش کی تمام تر کوششیں فضول اور بے معنی ہو کر رہ جاتی ہیں۔اس لحاظ سے درخت کا وجود جس میں جڑیں، تنا، شاخیں، پتے اور کونپلیں سب شامل ہیں پھل ہی کا مرہون منت ہے۔اس حقیقت کے باوجود کہ درخت کے یہ سب حصے پھل سے پہلے وجود میں آئے پھر بھی یہ درخت کی علت غائی یعنی پھل ہی کے ممنون ہیں۔یہ علت غائی اور مقصد ہی کا فیض ہے جس کی وجہ سے تخلیق کا عمل جاری و ساری ہے۔تخلیق کے اس مقصد و منتهی یعنی انسان اور باقی کائنات کے باہمی تعلق کی روشنی میں اسلامی تعلیمات کا مطالعہ کیا جائے تو یہ معلوم کر کے حیرت ہوتی ہے کہ اسلام صرف اللہ تعالیٰ اور انسان کے تعلق ہی کا احاطہ نہیں کرتا بلکہ انسان کے حیوانات اور جمادات سے تعلق پر بھی محیط ہے۔اس نقطہ نگاہ سے کائنات کی ہر چیز مقدس بن جاتی ہے اس لئے نہیں کہ وہ انسان سے اعلیٰ ہے بلکہ اس لئے کہ خالق کا ئنات نے خاص طور پر اسے براہ راست یا بالواسطہ انسان کے لئے پیدا کیا ہے۔اس لحاظ سے کائنات میں کوئی شے بھی فضول، بے معنی اور الگ تھلگ نہیں رہتی۔حتی کہ کرہ ارض سے بعید ترین فاصلوں پر واقع ستاروں کا وجود بھی بامعنی اور با مقصد ہو جاتا ہے اور تخلیق کے منصوبہ میں ان کا مقام واضح ہو جاتا ہے۔309