اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 303
محبت و اخوت، صلہ رحمی اور حسن سلوک کی ضرورت کا ذکر کیا جا چکا ہے یہاں اس کا ذکر اس لئے کیا جا رہا ہے تا کہ فرد کے کردار کی اہمیت اور ضرورت کو اجاگر کیا جائے۔دراصل فرد کا کردار معاشرہ میں وہی مقام رکھتا ہے جو کسی عمارت کی تعمیر میں اینٹ کا ہوتا ہے۔اینٹ کو بہتر بنائے بغیر عمارت کو بہتر نہیں کیا جا سکتا۔خدمت خلق اسلام نے اس امر پر زور دیا ہے کہ انسان کو اپنے اندر یہ صلاحیت پیدا کرنی چاہئے کہ وہ دوسروں کی خدمت کر کے خوشی محسوس کرے نہ کہ دوسروں سے خدمت لے کر۔قرآن کریم کی ایک آیت کے مندرجہ ذیل حصہ میں یہی پیغام دیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ ط وَتُؤْمِنُونَ بِاللهِ * (سورۃ آل عمران آیت ۱۱۱) ترجمہ :۔تم بہترین امت ہو جو تمام انسانوں کے فائدہ کے لئے نکالی گئی ہو۔تم اچھی باتوں کا حکم دیتے ہو اور بری باتوں سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان لاتے ہو۔اس آیت میں یہ اشارہ کیا گیا ہے کہ ایک مسلمان کو دوسروں پر بلا وجہ فوقیت نہیں دی گئی۔کسی مرد یا عورت کے محض مسلمان ہونے سے خود بخود یہ نتیجہ نہیں نکالا جا سکتا کہ وہ دوسروں سے بہتر ہے۔كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ کا خطاب دوسرے کی خدمت کر کے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ دوسروں کے ساتھ احسان کا سلوک کرنے والے ہوں۔303