اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 300
مسابقت کی کوشش ایسی برائیاں ہیں جو آزاد اور صاف ستھرے مقابلہ کی روح کے لئے زہر قاتل کا حکم رکھتی ہیں۔ایسی برائیوں کے ہوتے ہوئے مسابقت کا مفید جذبہ الٹا سارے معاشرہ کو بیمار کر دیتا ہے۔اس کی چھوٹی سی مثال کھیلوں کے مقابلوں کے دوران نشہ آور ادویات کا استعمال ہے۔قومی اور بین الاقوامی سطح پر صنعتی اور تجارتی مقابلوں میں اس کی بہت ہی بری اور گھناؤنی مثالیں ملتی ہیں جہاں انصاف نام کی چیز نہیں ملتی۔یاد رہے کہ تیسری دنیا کے ممالک کے ناجائز ذرائع ترقی یافتہ اقوام کے اختیار کردہ ناجائز ذرائع سے مختلف ہوتے ہیں۔تیسری دنیا کے ممالک میں فوری اقتصادی فوائد حاصل کرنے کے لئے ناجائز ذرائع بلا تکلف اور بکثرت استعمال کئے جاتے ہیں مثلاً بد عنوانی ملاوٹ، بد عہدی، فراڈ اور دھوکہ بازی وغیرہ۔یہی وجہ ہے کہ تمام شعبہ ہائے زندگی میں مذہبی اور اخلاقی تعلیم کو بروئے کار لانے کی اشد ضرورت ہے۔ظاہر ہے کہ اس تعلیم کے فقدان سے نہایت خطرناک نتائج نکلنے کا خطرہ ہے۔مسابقت سے متعلق مختلف مقابلوں کے سلسلے میں اسلام نے تفصیلی ہدایات دی ہیں۔یہ ایک بہت بڑا المیہ ہے کہ خود مسلمان ممالک میں جہاں اسلامائزیشن اور اسلامی بنیاد پرستی کا اس قدر چرچا رہتا ہے وہاں بھی صنعت و تجارت اور اقتصادی تعلقات کو اسلامی طرز پر ڈھالنے کی کوئی سنجیدہ کوشش شاذ و نادر کے طور پر ہی دکھائی دیتی ہے۔قرآن کریم کی مندرجہ ذیل آیت میں مسابقت کے طبعی جذر کے متعلق اسلامی تعلیم کا خلاصہ پیش کیا گیا ہے: وَلِكُلِّ وَجْهَة هُوَ مُوَلَيْهَا فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ ، أَيْنَ مَاتَكُونُوا يَأْتِ بِكُمُ اللهُ جَمِيعًا إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرِهِ ( سورة البقرة آیت ۱۴۹) ترجمہ:۔اور ہر ایک کے لئے ایک مطمح نظر ہے جس کی طرف وہ منہ پھیرتا ہے۔پس نیکیوں میں ایک دوسرے پر سبقت لے جاؤ۔تم جہاں کہیں بھی 300