اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 283 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 283

يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ ، فَإِنْ رون ج تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللهِ وَالرَّسُوْلِ إِنْ كُنتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ o الأخرِ ذَلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلاه (سورۃ النساء آیت ۶۰) ترجمہ:۔اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اپنے حکام کی بھی۔اور اگر تم کسی معاملہ میں ( اولوالامر سے ) اختلاف کرو تو ایسے معاملے اللہ اور رسول کی طرف لوٹا دیا کرو اگر (فی الحقیقت) تم اللہ پر اور یوم آخر پر ایمان لانے والے ہو۔یہ بہت بہتر ( طریق) ہے اور انجام کے لحاظ سے بہت اچھا ہے۔لیکن جہاں تک خدا اور بندہ کے تعلق کا سوال ہے یہ ایک ایسا معاملہ ہے جو مذہب سے مخصوص ہے اور ریاست کو اس میں مداخلت کا کوئی حق حاصل نہیں ہر شخص پوری طرح آزاد ہے کہ جو عقیدہ چاہے رکھے اور اس کا اظہار کرے۔ہر شخص کا یہ بنیادی حق ہے کہ وہ اپنے مذہب کے مطابق اللہ تعالیٰ یا کسی بت کی پرستش کرے۔ہے۔پس اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ مذہب کا کوئی حق نہیں کہ وہ ان معاملات میں دخل اندازی کرے جو خالصتاً ریاست کے دائرہ کار میں آتے ہیں نہ ہی حکومت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ مذہبی معاملات میں مداخلت کرے۔اسلام نے جملہ حقوق اور فرائض کا اتنی وضاحت کے ساتھ تعین کر دیا ہے کہ کسی ٹکراؤ کی صورت پیدا نہیں ہو سکتی۔اس موضوع سے متعلق بہت سی آیات کا مذہبی امن کے ضمن میں ذکر کیا جا چکا ہے۔بدقسمتی یہ ہے کہ بعض دفعہ بہت سے سیکولر ممالک اپنی حدود سے تجاوز کر جاتے ہیں اور یہی حال مذہبی ریاستوں یا ان ریاستوں کا ہے جن پر مذہب کے ٹھیکیدار مسلط ہیں۔ایسے ممالک جہاں مذہبی جنونیوں کی حکومت ہو ان کے لئے ہمدردی کے 283