اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 276
معمولی نہیں سمجھنا چاہئے۔مذہبی جماعتوں کے باہمی تعلقات کو ان سے سخت نقصان پہنچ سکتا ہے۔کیا صرف مذہب ہی کو قانون سازی کا حق حاصل ہے؟ مذہب اور مملکت کا مسئلہ ایک ہمہ گیر اور آفاقی مسئلہ ہے مگر اس پر کبھی پوری سنجیدگی سے تحقیق نہیں کی گئی۔سیاستدان اور مذہبی راہنما دونوں ہی کبھی یہ فیصلہ نہیں کر پائے کہ وہ حد فاصل کون سی ہے جو مذہب کو مملکت سے جدا کرتی ہے۔جہاں تک عیسائیوں کا تعلق ہے یہ مسئلہ اسی وقت حل ہو جانا چاہئے تھا جب حضرت عیسی علیہ السلام نے فریسیوں کو ایک تاریخی جواب دیا تھا جو انجیل میں ان الفاظ میں درج ہے۔' تب اس نے انہیں کہا کہ جو قیصر کا ہے قیصر کو دو اور جو خدا کا ہے وہ خدا کو دو۔(متی باب ۲۲ آیت ۲۱) حضرت عیسی علیہ السلام کا یہ بیان بہت پُر حکمت ہے اس میں ہر ضروری بات بیان کر دی گئی ہے۔مذہب اور سیاست معاشرہ کے دو پہیوں کی طرح ہیں۔پیسے خواہ دو ہوں یا چار یا آٹھ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا جب تک سب کل پرزے اپنی اپنی جگہ پر قائم رہتے ہوئے صحیح سمت میں حرکت کرتے رہیں کسی قسم کے تصادم اور جھگڑے کا سوال پیدا نہیں ہوگا۔قرآن کریم نے صحف سابقہ سے کامل اتفاق کرتے ہوئے اس نظریہ کو مزید وضاحت سے بیان فرمایا ہے اور نہ صرف معاشرہ کے اجزائے ترکیبی کی حدود کو متعین کیا ہے بلکہ ان کے دائرہ عمل کی نشاندہی بھی کی ہے۔قرآن کریم کی امور مملکت سے 276