اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 273
جبکہ اگر جنت کے ٹھیکیداروں کو موقع مل گیا تو وہ کسی قسم کی کوئی نرمی اور رعایت روا نہیں رکھیں گے۔کچھ دور اندیش اور محتاط سیاست دان خوب سمجھتے ہیں کہ یہ ایک خطر ناک کھیل ہے مگر افسوس کہ ایسے سیاست دانوں کی تعداد روز بروز گھٹ رہی ہے۔لگتا ہے کہ سیاست اور منافقت ایک طرف اور سچ اور دیانت دوسری طرف کھڑے ہیں اور ان کا ایک دوسرے سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔بالعموم اہل دانش روز بروز جمہوریت کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔یہ لوگ اسلام سے محبت تو رکھتے ہیں لیکن ملاں کی حکومت سے خائف ہیں۔وہ ہرگز جمہوریت کو اسلام کا بدل نہیں سمجھتے بلکہ در حقیقت یہ یقین رکھتے ہیں کہ یہ قرآن ہی ہے جس نے جمہوریت کو ایک سیاسی فلسفہ کے طور پر پیش کیا ہے۔چنانچہ فرمایا: وہ -- ووه ه وه وَالَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِرَبِّهِمْ وَأَقَامُوا الصَّلوةَ وَأَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُمْ - وَمِمَّا اوہ وہ وہ رزقنهم ينفقون (سورۃ الشوریٰ آیت (۳۹) ترجمہ۔اور جو اپنے رب کی آواز پر لبیک کہتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور ان کا امر باہمی مشورہ سے طے ہوتا ہے اور اس میں سے جو ہم نے انہیں عطا کیا خرچ کرتے ہیں۔وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ ، إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ المتوكلين ط (سوۃ آل عمران آیت (۱۶۰) ترجمہ:۔اور (ہر) اہم معاملہ میں ان سے مشورہ کر۔پس جب تو (کوئی) فیصلہ کر لے تو پھر اللہ ہی پر توکل کر۔یقینا اللہ تو کل کرنے والوں سے محبت رکھتا ہے۔مختلف گروہوں کے مابین اس رسہ کشی کا حاصل یہ ہے کہ پاکستان جیسے نئے وجود میں آنے والے مسلمان ملک طرح طرح کی پیچیدگیوں اور تضادات کا شکار 273