اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 271
اب سوال یہ ہے کہ ایک مسلم مملکت کا نظم ونسق کس طریق پر چلایا جانا چاہئے۔اس کے متعلق عام طور پر یہ خیال پایا جاتا ہے کہ روز مرہ کے انتظامی امور میں حکومت عوام کے نمائندہ کی حیثیت سے اللہ تعالیٰ کی مرضی کے اظہار کا ایک ذریعہ بن جاتی ہے اور چونکہ حاکمیت ان معنوں میں عوام کی ہوتی ہے اور وہ اپنا اختیار انتخاب کے ذریعہ نمائندوں کو منتقل کر دیتے ہیں اس لئے ایسا نظام جمہوری ہے۔ملائیت نام نہا د ملا عام مسلمانوں کے جدید جمہوری رجحانات سے صرف اس شرط پر متفق ہو سکتے ہیں کہ جمہوری فیصلوں کو شریعت کی بنیاد پر قبول یا رد کرنے کا آخری اختیار انہیں حاصل ہو۔اس مطالبہ کو تسلیم کرنے کا بالفاظ دیگر مطلب یہ ہے کہ قانون سازی کا آخری اختیار اللہ تعالیٰ کو نہیں بلکہ ملاؤں اور ان کے ساتھیوں کے ہاتھ میں دے دیا جائے۔ایسا زبر دست اختیار جب ان مولویوں کو مل جائے گا جن میں ابھی تک اس بنیادی امر پر بھی اتفاق رائے نہیں کہ شریعت کیا ہے اور کیا نہیں تو ظاہر ہے کہ اس کے بڑے خوفناک نتائج نکلیں گے۔اتنے بے شمار فقہی مسالک ہیں کہ کسی ایک مکتبہ فکر کے علماء بھی تمام شرعی احکامات پر متفق نہیں ہیں۔مختلف شرعی احکامات میں اللہ تعالیٰ کی اصل منشا کیا ہے اس پر بھی مختلف ادوار میں علماء کا موقف تبدیل ہوتا رہا ہے۔اس اعتبار سے آج عالم اسلام کو بڑے پیچیدہ مسائل کا سامنا ہے اور یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ اسلامی دنیا ابھی تک اپنی حقیقی شناخت کی تلاش میں ہے۔مسلمان دانشوروں پر یہ حقیقت روز بروز آشکار ہوتی چلی جا رہی ہے کہ اگر مولوی کسی ایک مطالبہ پر اکٹھے ہو سکتے ہیں تو وہ یہ ہے کہ کسی قسم کی نرمی اور رعایت کے بغیر جبراً شریعت کو نافذ کر دیا جائے۔انقلاب ایران نے ان ممالک میں بھی 271