اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 270 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 270

اللہ تعالیٰ کی بادشاہت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: فَتَعَلَى اللهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ ، لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ (سورۃ المومنون آیت ۱۱۷) ترجمہ:۔پس بہت بلند مرتبہ ہے اللہ سچا بادشاہ۔اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔معز ز عرش کا رب ہے۔یہ بنیادی اصول کہ آخری اور حقیقی اقتدار کا مالک اللہ تعالیٰ ہے اور وہی سب بادشاہوں کا بادشاہ ہے قرآن کریم میں کئی طرح سے بیان ہوا ہے جس کی ایک مثال مذکورہ بالا آیت ہے۔امور مملکت کی انجام دہی میں اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اعلیٰ کا اظہار دو طرح سے ہوتا ہے۔صلى الله (الف) قانون شریعت جس کا ماخذ کلام الہی ہے۔سنت رسول اللہ ﷺ اور مستند احادیث جو قرون اولیٰ کے مسلمانوں نے رسول اللہ ﷺ کے حوالہ سے بیان کیں۔یہ تین ذرائع اپنے مرتبہ کے لحاظ سے اول درجہ پر ہیں اور ہر قسم کی قانون سازی کے لئے ضروری راہنمائی مہیا کرتے ہیں۔کسی بھی جمہوری حکومت کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ قرآن کریم، سنت رسول اللہ ﷺ اور احادیث مبارکہ میں مذکور احکام الہی میں کسی قسم کی مداخلت کرے۔(ب) کوئی ایسی قانون سازی جائز نہیں ہوگی جو مذکورہ بالا اصول سے ٹکراتی ہو۔بد قسمتی یہ ہے کہ مختلف اسلامی فرقے اس بات پر متفق نہیں ہو سکے کہ شریعت کے واضح اور دوٹوک قوانین کیا ہیں البتہ سب علماء اس پر متفق ہیں کہ قانون عطا کرنے کا حق صرف اللہ تعالیٰ ہی کو حاصل ہے اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ قرآنی وحی کے ذریعہ اپنے آخری فیصلہ کا اظہار فرما دیا ہے۔پر 270