اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 264
اچھا بن جائے اور یہ صورت حال ایک عام آدمی کو مخمصہ میں مبتلا کر سکتی ہے۔کمیونزم کا نصف صدی سے زائد عرصہ تک جاری رہنے والا وسیع تجربہ آخر اسی نعرہ پر ہی تو مبنی تھا کہ یہ سب کچھ عوام کے لئے ہے۔آخر تمام سوشلسٹ ریاستوں میں آمرانہ نظام ہی تو رائج نہیں تھا۔اسی طرح جمہوری طرز حکومت میں جہاں تک عوام کے ذریعہ حکومت کا سوال ہے تو اس لحاظ سے بھی سوشلسٹ ممالک اور جمہوری ممالک میں فرق یا تو بہت کم ہے یا سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ہم کیسے کہہ سکتے ہیں کہ چونکہ سوشلسٹ ممالک میں منتخب ہونے والی تمام کی تمام حکومتیں عوام کے ذریعہ قائم نہیں ہوئیں اس لئے قابل مذمت ہیں ہاں البتہ آمرانہ نظام حکومت والے ممالک میں عین ممکن ہے کہ حکومت اپنی پسند کے امیدواروں کو منتخب کرانے کے لئے عوام کو اس رنگ میں مجبور کر دے کہ ان کے پاس کوئی اور راستہ اختیار کرنے کی گنجائش ہی نہ رہے۔مغربی دنیا کے چند ایک ممالک کو چھوڑ کر باقی دنیا کے جمہوری ممالک میں بھی ایسے ہتھکنڈوں کا استعمال ہرگز بعید از قیاس نہیں ہے۔حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں اکثر جگہ جمہوریت کو پوری آزادی حاصل نہیں ہے۔بہت کم ایسے انتخابات منعقد ہوتے ہیں جن کے بارہ میں کہا جا سکے کہ صحیح معنوں میں عوام کے ذریعہ ہوئے ہیں۔دھاندلیوں، ہارس ٹریڈنگ اور پولیس وغیرہ کے ذریعہ خوف و ہراس پھیلانے اور ایسے ہی دیگر نا جائز ہتھکنڈوں کے استعمال سے جمہوریت کی روح اتنی کمزور پڑ چکی ہے کہ اب جمہوریت کا صرف نام باقی رہ گیا ہے۔جمہوریت کا اسلامی تصور قرآن کریم کے مطابق لوگ اپنے لئے کوئی سا بھی نظام حکومت جو ان کے مناسب حال ہو اختیار کرنے میں آزاد ہیں۔جمہوریت، بادشاہت، قبائلی نظام، 264