اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 261 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 261

الأخِرِ ذَلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلاه (سورۃ النساء آیت ۶۰) ترجمہ :۔اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اپنے حکام کی بھی۔اور اگر تم کسی معاملہ میں (اولوالامر سے ) اختلاف کرو تو ایسے معاملے اللہ اور رسول کی طرف لوٹا دیا کرو اگر (فی الحقیقت) تم اللہ پر اور یوم آخر پر ایمان لانے والے ہو۔یہ بہت بہتر ( طریق) ہے اور انجام کے لحاظ سے بہت اچھا ہے۔اس آیت کریمہ میں حاکمیت اعلیٰ کی بعض اور اقسام کا ذکر ہے نیز اس آیت میں زور اس امر پر دیا گیا ہے کہ ضروری نہیں کہ جمہوری طرز پر کیا گیا انتخاب درست بھی ہو عین ممکن ہے کہ عوام کی غالب اکثریت کسی لیڈر کی عظیم قائدانہ صلاحیتوں کو پہچاننے سے قاصر رہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ اگر ایک ایسے عظیم لیڈر کو ان پر بطور حاکم مقرر کر دیا جائے تو عوام اس کے خلاف سراپا احتجاج بن جائیں۔کسی بھی سیاسی پیمانہ سے اسے ماپا جائے تو ایسے حکام کا تقرر آمرانہ متصور ہوگا۔اب یہ فیصلہ عوام کی مرضی کے خلاف ہو تو ہو، ان کے حقیقی مفاد کے خلاف ہرگز نہیں ہوگا۔جمہوری طرز کے انتخاب میں بنیادی طور پر یہ نقص ہے کہ لوگ محض اپنے سطحی اور وقتی تاثر کی بناء پر جذبات میں آکر عجلت میں فیصلہ کرتے ہیں۔وہ اس بات کے اہل نہیں ہوتے کہ اپنے لئے ان بہترین لوگوں کو منتخب کر سکیں جو قیادت کی اعلیٰ صفات سے متصف ہوں اور ان کے حقیقی مفاد کی حفاظت کر سکیں۔اللہ تعالیٰ کے قائم کردہ سلسلوں کی تاریخ کو دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ الہی جماعتوں پر ایسے نازک وقت بھی آتے رہے ہیں جب ان کی سیاسی بقا بظاہر معرض خطر میں تھی تب اللہ تعالیٰ نے بادشاہ حاکم یا لیڈر کے انتخاب کا کام خود اپنے ہاتھ میں لے لیا۔لیکن اس سے یہ نتیجہ نہیں نکالنا چاہئے کہ سب بادشاہ یا قائدین 261