اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 244 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 244

انسان پر توڑے جانے والے مصائب یہ ایک عالمی ذمہ داری ہے کہ ان ممالک کی مدد کی جائے جو ایسے بحرانوں سے بخوبی نبرد آزما ہونے کی طاقت نہ رکھتے ہوں۔اصلاح احوال کی خاطر حکومت کا یہ فرض ہے کہ جو کچھ درحقیقت غرباء اور فقراء کی ملکیت ہے وہ ان کو واپس منتقل ہوتا کہ وہ بھی مناسب رنگ میں زندگی گزار سکیں۔اس سلسلہ میں چار بنیادی ضروریات یعنی خوراک لباس، پانی اور رہائش کو دوسری تمام چیزوں پر ترجیح حاصل ہوگی۔بالفاظ دیگر ایک حقیقی اسلامی ریاست میں کوئی نادار اور محتاج ایسا نہیں ہو سکتا جسے بھیک مانگنے کی ذلت اٹھانی پڑے اور جس کی یہ چار بنیادی ضروریات پوری نہ ہوں۔اگر ان ضروریات کے پورا ہونے کی ضمانت مل جائے تو حکومت اپنی کم سے کم ذمہ داری کی ادائیگی سے عہدہ برآ ہو جائے گی۔اگر چہ بحیثیت مجموعی معاشرہ کی دیگر ذمہ داریاں اس سے کہیں زیادہ ہیں۔یہ قول کہ انسان صرف روٹی سے نہیں جیتا اپنے اندر بڑے گہرے معانی رکھتا ہے۔اس کی روشنی میں مذکورہ بالا بنیادی ضروریات صاف اور صحت بخش پانی، مناسب لباس اور مناسب رہائش میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔تاہم یہ تمام ضروریات پوری ہونے سے بھی زندگی مکمل نہیں ہوتی۔انسان ہمیشہ ان بنیادی ضروریات سے بڑھ کر کسی اور چیز کی تلاش میں رہتا ہے۔پس ضروری ہے کہ معاشرہ غرباء کی بے کیف زندگیوں میں رنگ بھرنے کے لئے کوئی مناسب اور مؤثر قدم اٹھائے اور امراء کی خوشیوں میں انہیں بھی حصہ دار بنائے۔پھر صرف یہی کافی نہیں کہ معاشرہ کے خوش نصیب اور امیر لوگ اپنی دولت میں سے غرباء کو ان کا حصہ لوٹا دیں بلکہ ضروری ہے کہ وہ غربت کے ان دکھوں میں بھی ان کے شریک ہوں جن میں انسانوں کی ایک بہت بڑی تعداد مبتلا ہے اور سسک سسک کر زندگی کے دن پورے کر رہی ہے۔لازماً ایسا انتظام ہونا چاہئے جس کے ذریعہ امراء اور غرباء باہم گھل مل 244