اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 243
ان غریب ممالک کے لئے بھی مختص کریں جس سے ان لاکھوں کروڑوں انسانوں کے دکھ درد اور مصائب کا مداوا کیا جا سکے۔اسلامی نقطہ نظر سے یہ موضوع بڑا اہم ہے۔اسلام کے نزدیک فرد کی مصیبت کے وقت اس کی مدد کے لئے اس ملک کا معاشرہ ہی ذمہ دار نہیں بلکہ کسی بھی معاشرہ کے مصیبت میں گرفتار انسان کی تکلیف کے ازالہ کی ذمہ داری تمام بنی نوع انسان پر عائد ہوتی ہے اور اس ذمہ داری کی ادائیگی کے لئے ہر انسان اللہ تعالیٰ کے سامنے جوابدہ ہے۔انسانیت کا مرتبہ جغرافیائی حدود، رنگ ونسل اور مذہبی و سیاسی عقائد سے بالا ہے۔لوگ جب بھی اور جہاں بھی قحط، بھوک یا دوسری قدرتی آفات کا شکار ہوں تو اسے ایک انسانی مسئلہ سمجھا جانا چاہئے اور ہر ملک اور ہر معاشرہ کو ان دکھوں کو کم کرنے کے لئے مدد دینی چاہئے۔یہ ایک قابل شرم بات ہے کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کی تمام تر ترقی کے باوجود دنیا سے بھوک اور پیاس ختم نہیں کی جاسکی۔وجہ یہ ہے کہ اس طرف جتنی توجہ دی جانی چاہئے تھی نہیں دی گئی۔کوئی ایسا نظام ضرور وضع ہونا چاہئے جس کے ذریعہ تمام ممالک سے اکٹھی کی ہوئی دولت فوری طور پر ان علاقوں میں تقسیم کی جا سکے جہاں بھوک نے ڈیرے ڈال رکھے ہوں اور قحط کے ہاتھوں انسان لقمہ اجل بن رہے ہوں یا جہاں لوگ بالکل بے زر اور بے گھر ہو چکے ہوں۔حکومت کی ذمہ داریاں ملکی اور قومی بھی ہیں اور عالمی بھی۔قومی سطح پر حکومت کی ذمہ داری تو یہ ہے کہ ہر فرد کی بنیادی ضروریات پوری کی جائیں اور اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ بلا استثناء سب کو کھانا تن ڈھانپنے کو لباس، پینے کو پانی اور سر چھپانے کو جگہ میسر ہو۔عالمی ذمہ داریاں (جن کا ذکر آگے آئے گا) یہ ہیں کہ انسانیت پر نازل ہونے والی آفات کا مقابلہ کرنے کے لئے مرکزی فنڈ کے قیام اور دیگر وسائل کو اکٹھا کرنے میں بھر پور حصہ لیا جائے۔قدرتی آفات ہوں یا انسان کے ہاتھوں 243