اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 242 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 242

بھی ہیں جنہیں اپنی بھوک مٹانے کے لئے کوڑے کے ڈھیروں پر سے بچا کھچا کھانا تلاش کرنا پڑتا ہے۔ان فتیح مناظر کو دیکھ کر سرمایہ دارانہ معاشرہ کی فطری کمزوریاں بے نقاب ہو جاتی ہیں اور اس گہرے پوشیدہ مرض کا پتہ چلتا ہے جو اسے اندر ہی اندر کھائے جا رہا ہے۔مادہ پرستی اپنی انتہائی شکل میں خود غرضی کو پروان چڑھاتی ہے اور دوسروں کی تکلیف کے احساس سے عاری کر دیتی ہے۔بلاشبہ تیسری دنیا کے اکثر ممالک میں انتہائی غربت کے باعث اس سے بھی زیادہ درد ناک مناظر دکھائی دیتے ہیں۔لیکن اول تو وہاں سارے کا سارا معاشرہ غربت کا شکار ہے اور دوسرے یہ کہ یہ ممالک بھی سرمایہ دارانہ نظام کی ڈگر پر چلائے جا رہے ہیں۔ایسے ممالک کی اکثر آبادی عیسائی ہو یا یہودی، ہندو ہو یا مسلمان یا لامذہب، سب کا نظام اقتصادیات بنیادی طور پر سرمایہ دارانہ نظام سے مختلف نہیں ہے۔دنیا کے نام نہاد ترقی یافتہ ممالک میں موجود تنگ و تاریک آبادیاں انسانیت کے چہرہ پر ذلت کے بدنما داغ ہیں۔ان آبادیوں میں بدی پروان چڑھتی ہے اور جرائم بڑھتے چلے جاتے ہیں۔براعظم افریقہ کے ممالک اور دیگر ممالک میں ایسے خطے بھی ہیں جہاں لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو دور دور تک پینے کا صاف پانی تک میسر نہیں ہے۔ان علاقوں میں آپ کو اگر ایک وقت بھی پیٹ بھر کر کھانا مل جاتا ہے تو آپ اپنے آپ کو خوش قسمت خیال کرتے ہیں۔پانی کی نایابی ایک روزمرہ کا مسئلہ ہے دوسری طرف دنیا میں ایسے ممالک بھی ہیں جن کے پاس وہ تمام ذرائع اور وسائل موجود ہیں جن سے محض چند سالوں میں ان غریب ممالک کی تقدیر بدلی جاسکتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ امیر ممالک کے خزانوں میں بھی کوئی کمی نہیں ہو گی۔لیکن افسوس تو یہ ہے کہ انہیں خیال تک نہیں آتا کہ وہ اپنے ان خزانوں میں سے کچھ حصہ 242