اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 238 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 238

مسترد کرتا ہے۔اسلام کے اقتصادی نظام میں دونوں کی خوبیاں شامل ہیں۔اسلام نے آج سے چودہ سو سال پہلے جو مکمل ضابطۂ اخلاق لین دین اور تجارت کے متعلق دیا تھا اس کے کچھ اصولی پہلو درج ذیل ہیں۔آج جدید دور کا انسان بالآخر بڑے تلخ تجربات اور مشکلات کے بعد ان اصولوں کو دریافت کر سکا ہے۔ا۔اسلام میں تجارتی تعلقات کامل اعتماد اور دیانتداری پر مبنی ہیں۔( سورة البقرة آیات ۲۸۴٬۲۸۳) ۲۔اسلام غلط اوز ان رکھنے اور کم ماپ تول سے منع کرتا ہے۔( سورة المطففین آیات ۲ تا ۴) ناقص مال اور خراب اشیاء فروخت کرنے سے تاجروں کو منع کیا گیا ہے یعنی ایسی چیزیں جو گل سڑ چکی ہوں یا ناکارہ ہو چکی ہوں۔تاجر کو کوئی چیز فروخت کرتے ہوئے اس کا نقص چھپانے کی ہرگز کوشش نہیں کرنی چاہئے۔(صحیح مسلم) اگر کوئی ایسی ناقص چیز فروخت کی جاتی ہے جس کے نقص کا خریدار کو پہلے سے علم نہیں تھا وہ علم ہونے پر اس چیز کو واپس کرنے اور اپنی رقم واپس لینے کا اختیار رکھتا ہے۔۴۔تاجر کو مختلف گاہکوں سے مختلف نرخ وصول کرنے سے منع کیا گیا ہے تا ہم وہ اپنی صوابدید پر کسی بھی گاہک کو رعایتی قیمت پر کوئی چیز فروخت کر سکتا ہے۔اس سلسلہ میں وہ کوئی بھی مناسب قیمت مقرر کرنے کا مجاز ہے۔(صحیح بخاری و صحیح مسلم ) ۵۔اسلام تجارت میں جعلی مقابلہ کو منع کرتا ہے۔مختلف کاروباری فر میں باہم گٹھ جوڑ کر کے پیداوار اور مارکیٹ پر قبضہ کرنے کی کوشش کرتی ہیں اور باہمی طور پر مقابلہ نہ کرنے کا فیصلہ کر لیتی ہیں۔اسلام ایسی گروہ بندیوں کی سختی سے ممانعت کرتا ہے۔نیلامی میں جھوٹ موٹ کی بولیاں دے کر امکانی خریدار کو دھوکہ دینے سے بھی منع کیا گیا ہے۔(صحیح بخاری و صحیح مسلم )۔اسی طرح اسلام ہدایت کرتا ہے کہ اشیاء کی فروخت کھلے عام اور ترجیحاً 238